زائرِ طیبہ روضے پہ جا کر تُو سلام میرا رورو کے کہنا
تیری قسمت پہ رشک آرہا ہے کہ مدینے کو تو جارہا ہے
جب پہنچ جاۓ تیرا سفینہ جب نظر آۓ میٹھا مدینہ
تو عرب کی حسیں وادیوں کو ریگزاروں کو آبادیوں کو
جب کہ پیشِ نظر جالیاں ہوں تیری آنکھوں سے آنسورواں ہوں
پیاری پیاری وہ جنت کی کیاری چوم لینا نگاہوں سے ساری
سبز گنبد کے دِلکش نظارے روح پرور وہاں کے منارے
رو رہا ہےہراک غم کی مارا عرض کرتا ہے تجھ سے بیچارا
— Unknown
