عطا کر دو مدینے کی اجا زت یارسولَ اللہ
کچھ ایسا ہو کرم ماہِ رسالت یارسولَ اللہ
صَحابہ کا گدا ہوں اور اہلِ بیت کا خادِم
تمہارا فضل ہے جومیں غلامِ غوث و خواجہ ہوں
اُسی احمد رضا کا واسِطہ جو میرے مرشِد ہیں
مدینہ میٹھا میٹھا ہے مدینہ پیارا پیارا ہے
میں ہوں سُنّی رہوں سُنّی مروں سُنّی مدینے میں
نَمازوں میں مجھے ہرگز نہ ہو سستی کبھی آقا
بڑے بھائی بہن کا میں کہا مانا کروں ہردم
بڑے جتنے بھی ہیں گھر میں ادب کرتا رہوں سب کا
میں سب سے ’’آپ‘‘ کہہ کر پیار سے با تیں کروں آقا
ادب استادِ دینی کا مجھے آقا عطا کردو
کرم کر دو کہ میرا حافِظہ مضبوط ہوجائے
میں گانے باجوں اور فلموں ڈِراموں کے گنہ چھوڑوں
حسد، وعدہ خِلافی، جھوٹ، چُغلی، غیبت و تہمت
مِرے اَخلاق اچھے ہوں مرے سب کام اچھے ہوں
ضَرورت سے زِیادہ مال و دولت کا نہیں طالِب
رہیں سب شاد گھروالے شہا تھوڑی سی روزی پر
سب اَہلِ حشر محشر میں اُنہی کو ڈھونڈتے ہونگے
بَہُت کمزور ہُوں قابِل نہیں ہرگز عذابوں کے
مجھے تم یارسولَ اللہ دے دو جذبۂ تبلیغ
شہا! عطارؔ پر ہر آن رَحمت کی نظر رکھنا
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
