سبوۓ جاں میں چھلکتا ہے کیمیا کی طرح
قدح گسار ہیں اس کی اماں میں جس کا وجود
وہ جس کے لطف سے کھلتا ہے غنچہء ادراک
طلسم جاں میں وہ آئینہ دار محبوبی
وہ جس کا جذب تھا بیداریء جہاں کا سبب
وہ جس کا سلسلۃ جود ابر گوہر بار
خزاں کے حجلہء ویراں میں وہ شگفتِ بہار
بسیط جس کی جلالت حمل سے میزاں تک
سوادِ صبح ازل جس کے راستے کا غبار
وہ عرش و فرش و زمان و مکاں کا نقشِ مراد
— Siraj Ud Deen Zafar\
