آؤ محفل میں غلامانِ رسولِ عربی
جھومتے پھرتے ہیں مستانِ رسولِ عربی
کیسے عشاق تھے یارانِ رسولِ عربی
ایسی وُسعت سے بچھا خوانِ رسولِ عربی
کعبہ و اَرض و سما شمس و قمر حور و مَلک
حور و غلماں کی تمنا ہو نہ شوقِ جنت
اپنی قسمت پہ نہ کیوں فخر کروں لاکھوں بار
اُس نے اللہ کے جلوؤں کا کیا نظارہ
اُن کی مدحت نہیں کچھ اِنس ومَلک پر موقوف
کس کو سرکار سے نعمت نہ ملی کون ہے وہ
رَمزِ محبوب و محب کون سمجھ سکتا ہے
قبر و محشر کا انہیں غم ہی نہیں کچھ اَصلاً
ان کا بندہ ہوا اللہ کا محبوب بنا
تیرہ بختوں کے مقدر کو ذرا چمکا دے
دِین و دُنیا کی مُیَسَّر ہوئی اُن کو شاہی
چھوڑ کر سلطنتیں ا ن کے بنے خاک نشیں
رُوبرو مثلِ کفِ دَست ہیں دونوں عالم
بادۂ حب نبی خوب جمائی رنگت
چشمِ دِل گورِ غریباں کو منوّر کردے
قبر میں جب کہ نکیرین کریں مجھ سے سوال
داخلِ خلد کیے جائیں گے اَہلِ عصیاں
فاتحِ بابِ شفاعت کے سبب حکم ملا
یاالٰہی یہ دعا ہے کہ بروزِ محشر
اے جمیلِؔ رضوی تیری حقیقت کیا ہے
یہ رضا کا ہے تصدق کہ جمیلِؔ رضوی
— Jamil Ur Rehman Qadri\