ایسی قدرت نے تیری صورت سنواری یارسول
ہے چمک تیرے دُرِ دَنداں میں جیسی یانبی
اے تیری رِفعت کہ تیرے رب نے کی تجھ کو عطا
ہے کہاں مادَر کو اُلفت اس قدر فرزند سے
خوابِ غفلت میں پڑے دن رات ہم سوتے رہے
رات کاٹی ہم نے سوکر دن گزارا لہو میں
وقت پیدائش شب معراج مرقد میں کہیں
عاصیوں کی مُلحِدوں کی مشرک و کفار کی
حق کے پیارے آپ اور اُمت ہے پیاری آپ کو
ایک قطرہ ہو عطا جامِ مئے عرفان سے
اس کو کہتے ہیں محبت حیدرِ کرار نے
زندگی بھر بعد مردن روزِ محشر تک رہے
شانِ رحمت جوش پر آئی چھڑایا قید سے
کوئی بھی دنیا و عقبیٰ میں نہیں پرسانِ حال
ہر مصیبت سے بچایا تیرے نامِ پاک نے
گر خدا چاہے تو اُٹھ جائے گا پردہ قبر سے
کعبۂ دل میں مَدینہ اور مَدینہ میں ہو تم
اس لیے عشاق کے سینوں میں ہو تم جلوہ گر
یا حبیب اللہ یاغوثُ الوریٰ جس دم کہا
پڑتی ہے دنیا میں لعنت حشر میں نارِ جحیم
ہے فقط اتنی تمنا اے جمیلؔ قادری
— Jamil Ur Rehman Qadri\