جو نبی کا غلام ہوتا ہے
جو کہ خوفِ خدا سے روتا ہو
جو غمِ مصطَفٰے میں روتا ہو
جو بُرے خاتمے سے ڈرتا ہو
جودے نیکی کی دعوت اے بھائی
جو بھی اپنائے ’’مَدنی اِنعامات‘‘
جو بھی ہے ’’قافِلوں‘‘ کا شَیدائی
جو بھی رہتا ہے ’’مَدنی حُلیے‘‘ میں
سنّتیں اُن کی جو بھی اپنائے
درسِ فیضانِ سنّت اے بھائی
بِھیڑ میں جیسے حجَرِ اَسوَد کا
یوں ہی عُشّاق کا وطن رہ کر
ہائے دُوری کو ہو گیا عرصہ
کب مدینے میں حاضِری ہو گی
یا نبی یہ غلام کب حاضِر
جو مدینے کے غم میں روئے وہ
جو دُرُود و سلام پڑھتے ہیں
کیا دبے دُشمنوں سے وہ ،حامی
آزمائِش ہے اُس کی دُنیا میں
جو ہو اللہ کا ولی اُس کا
جی لگانے کی جا نہیں دنیا
دارِفانی میں خوش رہے کیسے!
موت ایماں پہ آتی ہے جس پر
قبر روشن اُسی کی ہو جس پر
بے سبب بخشِش اُس کی ہوجس پر
بختور ہے مدینے میں جس کی
جس سے وہ خوش ہوں حشرمیں حاصل
دیکھو عطارؔ کب مِرا طیبہ
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
