ہادی و رہ نما آپؐ کا نقشِ پا
اپنا منشور ہے، اپنا آئین ہے
یہ زمیں کتنی روشن ہوئی، جس گھڑی
کاش اہلِ نظر کی نظر میں رہے
آپؐ کی شان کا تو ہے مذکور کیا
بس ہمیں اور کچھ بھی نہیں چاہیے
ہوگی کیا آُپؐ کی شانِ حسن و جمال
سارے عالم پہ یہ راز کُھلنے لگا
ہر زمانے کے ماتھے پہ مرقوم ہے
اب اسی سمت میں سب سفر ہیں مرے
آپؐ کے شہر میں جب بھی حاضر ہوا
اپنے اعمال نامے میں مَیں نے لکھا
میں نے ہر تیرگی پر نسیمِ سحرؔ
— Naseem E Sehar\
