کرے چارہ سازی زِیارت کسی کی
چمک کر یہ کہتی ہے طلعت کسی کی
نہ رہتی جو پردوں میں صورت کسی کی
عجب پیاری پیاری ہے صورت کسی کی
ابھی پار ہوں ڈوبنے والے بیڑے
کسی کو کسی سے ہوئی ہے نہ ہو گی
دَمِ حشر عاصی مزے لے رہے ہیں
رہے دِل کسی کی محبت میں ہر دَم
ترا قبضہ کونین و مَا فِیْہِمَا پر
خدا کا دِیا ہے ترے پاس سب کچھ
زمانہ کی دولت نہیں پاس پھر بھی
نہ پہنچیں کبھی عقل کل کے فرشتے
ہمارا بھروسہ ہمارا سہارا
قمر اِک اِشارے میں دو ٹکڑے دیکھا
ہمیں ہیں کسی کی شفاعت کی خاطر
مصیبت زَدو شاد ہو تم کہ ان سے
نہ پہنچیں گے جب تک گنہگار اُن کے
ہم ایسے گنہگار ہیں زُہد والو
مدینہ کا جنگل ہو اور ہم ہوں زاہد
ہزاروں ہوں خورشیدِ محشر تو غم کیا
بھرے جائیں گے خلد میں اَہلِ عصیاں
وہی سب کے مالک انہیں کا ہے سب کچھ
رَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَک پر تصدق
اُترنے لگے مَا رَمَیْتَ یَدُ اللہ
گدا خوش ہوں خَیْرٌلَّک کی صدا ہے
فَتَرْضٰی نے ڈالی ہیں باہیں گلے میں
خدا سے دُعا ہے کہ ہنگامِ رُخصت
— Hassan Raza Khan Barelvi\