دمِ اضطراب مجھ کو جو خیالِ یار آئے
تری وحشتوں سے اے دِل مجھے کیوں نہ عار آئے
مِرے دل کو دردِ اُلفت وہ سکون دے الٰہی
مجھے نزع چین بخشے مجھے موت زندگی دے
سبب وُفورِ رحمت مری بے زبانیاں ہیں
کھلیں پھول اُس پھبن کے کھلیں بخت ہر چمن کے
نہ حبیب سے محب کا کہیں ایسا پیار دیکھا
مجھے کیا اَلم ہو غم کا مجھے کیا ہو غم اَلم کا
جو امیر و بادشاہ ہیں اسی دَر کے سب گدا ہیں
جو چمن بنائے بن کو جو جناں کرے چمن کو
یہ کریم ہیں وہ سرور کہ لکھا ہوا ہے دَر پر
ترے صدقے جائے شاہا یہ ترا ذلیل منگتا
چمک اُٹھے خاکِ تیرہ بنے مہر ذَرَّہ ذَرَّہ
نہ رُک اے ذلیل و رُسوا دَرِ شہریار پر آ
تری رحمتوں سے کم ہیں مرے جرم اِس سے زائد
گل خلد لے کے زاہد تمہیں خارِ طیبہ دے دوں
بنے ذَرَّہ ذَرَّہ گلشن تو ہو خار خار گلبن
ترے صدقے تیرا صدقہ ہے وہ شاندار صدقہ
ترے دَر کے ہیں بھکاری ملے خیر دَم قدم کی
حسنؔ ان کا نام لے کر تو پکار دیکھ غم میں
— Hassan Raza Khan Barelvi\