تو اُس کے نصیبوں میں جنت نہیں
کھڑا ہوں ادھر کب سے میں برق پا
میں روتا نہیں اُن کی یادوں میں کب
چلو اُنؐ کے نقشِ قدم پر چلیں
مرا مسئلہ جانتے ہیں نبیؐ
نہیں ہے جو حب رسالت مآبؐ
— Rustam Nami\
تو اُس کے نصیبوں میں جنت نہیں
کھڑا ہوں ادھر کب سے میں برق پا
میں روتا نہیں اُن کی یادوں میں کب
چلو اُنؐ کے نقشِ قدم پر چلیں
مرا مسئلہ جانتے ہیں نبیؐ
نہیں ہے جو حب رسالت مآبؐ
— Rustam Nami\
ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا رحمتوں کی چلی
آگۓ آگۓ مصطفیٰ ﷺ آگۓ
آمنہ کا مقدر سنوارا گیا
آگۓ آگۓ مصطفیٰ ﷺ آگۓ
دونوں عالم کی قسمت بدلنے لگی
آگۓ آگۓ مصطفیٰ ﷺ آگۓ
بن گئی ہے زمیں رشک باغ جناں
آگۓ آگۓ مصطفیٰ ﷺ آگۓ
آگۓ آگۓ مصطفیٰ ﷺ آگۓ
— Saim Chishti\
جب کیا میں نے وسیلہ شاہؐ کی توقیر کو
صاحبؐ قرآن کے دیدار سے بے خود ہوا
افتخار فخر رحمت سے ہوئی وہ اشکبار
جو یہ کہتا ہے مقدر کا لکھا ٹلتا نہیں
راہی جس میں بھی محمدؐ اور احمدؐ ہو لکھا
— Unknown
آہ! مَدنی قافِلہ اب جا رہا ہے لَوٹ کر
سنّتوں کی تربیَت کے قافِلوں کے قَدْر داں
کس قَدَر خوش تھے نکل کر چلد ئے تھے گھر سے جب
فِکْر تھی گھر کی نہ کوئی فکر کاروبار کی
جا تے ہی دنیا کے جھگڑے پھر گلے پڑ جائیں گے
باجماعت سب نَمازیں اور تہجُّد کے مزے
یاخدا! نکلوں میں مدنی قافلوں کیساتھ کاش
ہائے! سارا وقت میرا غفلتوں میں کٹ گیا
مَدنی ماحول اور مَدنی قافِلے والوں کی کچھ
مسجدوں کا کچھ ادب ہا ئے! نہ مجھ سے ہو سکا
آہ! شیطاں ہر گھڑی ہر وقت غالب ہی رہا
خوب خدمت سنّتوں کی ہم سدا کرتے رہیں
اِس عَلاقے والے سارے بھائیوں کا شکریہ
سنّتوں کی تربیت کے واسطے نکلا تھا میں
یارسولَ اللہ اپنے در پہ اب بلوایئے
ہے دعا عطّارؔ کی اس کی ہو حتمی مغفرت
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
بن کر فقیر جاؤ سرکار کی گلی میں
ایسا کریم کوئی تم کو نہ پھر ملے گا
جیسا بھی زخم ہوگا اچھا ضرور ہوگا
دنیا و دیں کی ہر اک نعمت ملے گی
جنت میں رہنے والی حوروں سے کوئی کہہ دے
سنتا نہیں تمہاری کوئی اگر کہانی
توہین عشق ہے یہ کوئی اور یاد آۓ
میں سو گیا ہوں شاید خوابوں میں ہی وہ آئیں
مرکر بھی میری میت ناصرؔ یہی کہے گی
— Nasir Hussain Chishti\
رنگ چمن پسند نہ پھولوں کی بو پسند
اپنا عزیز وہ ہے جسے تو عزیز ہے
مایوس ہو کے سب سے میں آیا ہوں تیرے پاس
ہیں خانہ زاد بندۂ احساں تو کیا عجب
کیونکر نہ چاہیں تیری گلی میں ہوں مٹ کے خاک
ہے خاکسار پر کرمِ خاص کی نظر
قل کہہ کر اپنی بات بھی لب سے تِرے سنی
حور و فرشتہ جن و بشر سب نثار ہیں
ان کے گناہگار کی اُمید عفو کو
طیبہ میں سر جھکاتے ہیں خاکِ نیاز پر
ہے خواہشِ وصالِ درِ یار اے حسنؔ
— Hassan Raza Khan Barelvi\
معراجِ بشر، نورِ خدا ہیں مرے آقاؐ
شان آپؐ کی کیسے کسی ادراک میں آۓ
ذات اُمؐ کی رہ زیست میں تنویرِ ہدایت
دنیا کی کشاکش ہوکہ ہو دیں کی تگ و دو
انساں پہ عیاں کرتے ہیں توحید کے اسرار
مقصود حیات آپؐ کا انسان کی بہبود
ایثار، کرم، خلق، رضا، صبر، محبت
ہے پرتوِ حق آپؐ کے اندازِ عمل میں
خورشید و قمر آپؐ کی تنویر سے روشن
حاصل ہے سِوا آپؐ کے کس کو یہ سعادت
مانگی تھی براہیم نے جو صحنِ حرم میں
گفتار نبئؐ درس ہے عرفانِ خدا کا
قرآن کا مفہوم عیاں انؐ کے عمل سے
پڑھتا ہوں درود آپؐ پہ اخلاص و وفا سے
ہے مجھ سا خطا کار بھی بخشش کا طلب گار
خوش بخت ہوں میں آپؐ کی امت میں ہوں ساقیؔ
— Rasheed Saqi\
کردے کرم رب سائیاں
میری جھولی بھر دے مولا
صدقہ حسن حسین دا
بیماروں دی سوہنے ربّا
اللہ اللہ کردے کردے
— Unknown
مورے جی میں ہے کب سے یہ آس
رہوں میں اداس دن رات
بے کل منوا چین نہ پاۓ
چلی آؤں نبی جی ﷺ تورے پاس
اس نگری کا پانی زم زم
دکھی جی کو نہ کر اداس
توری ذات جہاں سے عالی
ہر اک کا تجھے ہے احساس
پلکوں سے وہ جالیاں چوموں
رہوں بن کے وہاں میں توری داسی
— Unknown
آہ! ہر لمحہ گناہ کی کثرت اور بھرمار ہے
مجرموں کے واسطے دوزخ بھی شعلہ بار ہے
ہائے! نافرمانیاں بدکاریاں بے باکیاں
چھپ کے لوگوں سے گناہوں کا رہا ہے سلسلہ
زندگی کی شام ڈھلتی جا رہی ہے ہائے نفس
یاخدا! رَحمت تری حاوی ہے تیرے قہر پر
بندۂ بدکار ہوں بے حد ذلیل و خوار ہوں
موت کے جھٹکوں پہ جھٹکے آرہے ہیں المدد
اب سَرِ بالیں خُدارا مسکراتے آیئے
غسل دینے کے لئے غَسّال بھی اب آچکا
یانبی! پانی سے سارا جسم میرا دُھل گیا
لاد کر کندھوں پہ اَحباب آہ! قبرستاں چلے
قبر میں مجھ کو لِٹا کر اور مِٹّی ڈال کر
خواب میں بھی ایسا اندھیرا کبھی دیکھا نہ تھا
یارسولَ اللہ! آکر قبر روشن کیجئے
قبر میں شاہِ مدینہ آچکے مُنکر نکیر
یانبی! جنّت کی کھڑکی قبر میں کُھلوایئے
تُو نے دنیا میں بھی عَیبوں کو چُھپایا یاخدا
نیکیاں پلّے نہیں آقا شَفاعت کیجئے
یانبی عطارؔ کو جنّت میں دے اپنا جَوار
کاش ہو ایسی مدینے میں کبھی تو حاضِری
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\