یا نبی ﷺ صبح و شام کیجۓ گا
دل دھڑکنے کی بھی نہ آۓ صدا
وہاں الفاظ کام آتے نہیں
لمحہ لمحہ کٹے درودوں میں
یا نبی ﷺ صبح و شام کیجۓ گا
— Unknown
یا نبی ﷺ صبح و شام کیجۓ گا
دل دھڑکنے کی بھی نہ آۓ صدا
وہاں الفاظ کام آتے نہیں
لمحہ لمحہ کٹے درودوں میں
یا نبی ﷺ صبح و شام کیجۓ گا
— Unknown
آپ کی نسبت اے نانائے حُسین
دور کر فُرقت اے نانائے حسین
مر کے بھی نکلے نہ میرے قلب سے
گھر چھٹے یا سرکٹے پر گُم نہ ہو
ہوں گناہوں کا مریضِ دائمی
واسِطہ غوث و رضا کا دور ہو
غم تمھارا چَین لینے ہی نہ دے
اب مدینے میں بُلا کر دور کر
سبز گنبد کی بہاریں دیکھ لوں
موت سر پر آگئی کر دو عطا
اپنے جلووں سے عطا فرمائیے
دو بقیعِ پاک میں دوگز زمیں
اَز طُفیلِ غوثِ اعظم دور ہو
نارِ دوزخ سے بچا کر یانبی
حضرتِ شَبِّیر و شَبَّر کے طُفیل
آل سے اصحاب سے قائم رہے
پیر و مرشِد پر مرے ماں باپ پر
ہر طرف نیکی کی دعوت عام ہو
سنّتوں کی ہر طرف آئے بہار
خوب مَدنی قافِلوں کی دھوم ہو
مَدنی اِنعامات کی ہو ریل پیل
نیکیوں میں دل لگے ہر دم بنا
میں گناھوں سے سدا بچتا رہوں
جھوٹ سے بغض و حسد سے ہم بچیں
بدگمانی، بدنگاہی سے بچیں
دیجئے قفلِ مدینہ دیجئے
دولتِ اِخلاص ہم کو دیجئے
کیجئے حج کا شَرَف مجھ کو عطا
پھر طوافِ خانۂ کعبہ کروں
میں مدینے کا مسافِر اب بنوں
چل مدینہ کی بِشارت دیجئے
اپنا غم اور چشمِ نم دے دیجئے
عشق میں آہیں بھروں ، روتا رہوں
یارسولَ اللہِ اُنْظُر حالَنا
یاحبیبَ اللہِ اِسْمَعْ قالَنا
اِنَّنِی فِیْ بَحْرِ ھَمٍّ مُّغرَقٌ
خُذْ یَدِیْ سَھِّلْ لَّنَا اَشْکَالَنَا
اِستِقامت دیجئے اسلام پر
دل سے دنیا کی ہَوَس سب دورہو
نَزْع، قَبْر و حشْر، مِیزاں ہر جگہ
عیب کُھل جائیں نہ مَحشَر میں کہیں
از طفیلِ چار یارِ باصفا
صَدقہ شہزادوں کا آقا کیجئے
سب صَحابہ کا وسیلہ سیِّدا
غوث و خواجہ اور رضا کا واسِطہ
مُرشِدی قطبِ مدینہ کے طُفیل
ہر ولی کاواسِطہ عطّارؔ پر
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
وفورِ عشق سے سینوں میں اضطراب رہے
زمانہ سارا پھرا دربدر مگر وہ لوگ
ہمارے دل کو میسر رہی کلیدِ درود
یہی جزاۓ سخن ہے یہی ہے حرفِ دعا
یہی دعا ہے کہ سینہ رہے معطر یوں
وہ اسم پاک پڑھوں اور کیسے ممکن رہے
— Sajjad Baloch\
خیال میں بھی جب رسولِ ذی حَشَم کا نام پڑھ
جو مدحتِ نیاز ہے، جو عشق کی نماز ہے
یہ ربطِ لایزال ہے، یہ جان ہے، یہ آل ہے
ثنا ہی رخت و زاد ہے، نہاد ہے، مراد ہے
کریم سُن رہے ہیں تیری نعت کو، سلام کو
وہ نام ہی حیات ہے، وسیلۂ نجات ہے
— Maqsood Ali Shah\
دل درد سے بسمل کی طرح لوٹ رہا ہو
کیوں اپنی گلی میں وہ روادارِ صدا ہو
گر وقتِ اَجل سر تری چوکھٹ پہ جھکا ہو
ہمسایۂ رحمت ہے ترا سایۂ دیوار
موقوف نہیں صبحِ قیامت ہی پہ یہ عرض
دے اس کو دَمِ نزع اگر حور بھی ساغر
فردوس کے باغوں سے ادھر مل نہیں سکتا
دیکھا اُنہیں محشر میں تو رحمت نے پکارا
آتا ہے فقیروں پہ اُنہیں پیار کچھ ایسا
وِیراں ہوں جب آباد مکاں صبح قیامت
ڈھونڈھا ہی کریں صدرِ قیامت کے سپاہی
جب دینے کو بھیک آئے سرِ ُکوئے گدایاں
جھک کر اُنہیں ملنا ہے ہر اِک خاک نشیں سے
تم کو تو غلاموں سے ہے کچھ ایسی محبت
دے ڈالیے اپنے لبِ جاں بخش کا صدقہ
— Hassan Raza Khan Barelvi\
خاک سورج سے اندھیروں ازالہ ہوگا
حشر میں ان کا ہر اک چاہنے والا ہوگا
عشقِ سرکار کی اک شمع جلالو دل میں
جب بھی مانگو تو وسیلے سے انہی کے مانگو
حشر میں ہوگا وہ سرکار کے جھنڈے کے تلے
حشر میں اس کو بھی سینے سے لگائیں گے حضور
صلہِ نعتِ نبی پاؤں گا جس دن خالدؔ
— Unknown
مجھ پہ مولا کا کرم ہے ان کی نعتیں پڑھتا ہوں
دھوم ان کی نعت خوانی کی مچاتی جائیں گے
کتنا بڑا ہے مجھ پہ یہ احسان مصطفیٰ ﷺ
مجھ پہ مولا کا کرم ہے ان کی نعتیں پڑھتا ہوں
نعت خوانی کا مزہ نس نس میں ایسا چھا گیا
کوئی گفتو ہو لب پر تیرا نام آگیا ہے
جتنا دیا سرکارﷺ نے مجھ کو اتنی میری اوقات نہیں
تیرا وصف بیاںہو کس سے تیری کون کرے گا بڑائی
غم نہیں چھوڑ دے یہ سارا زمانہ مجھ کو
سینے میں بھرا ہے تیری نعتوں کا خزانہ
آواز عبید تیری بہ فیضان نعت ہی
— Ubaid Raza\
خدا نے جب سجائی بزم کن صدقہ محمدؐ کا
زمین و آسماں کیونکر نہ ہوں ان کے تصرف میں
میںکرتا ہوں تصور میں طوافِ گنبدِ خضرا
اُجالے چھا گۓ کفر و جہالت کے اندھیروں پر
نظر کس طرح آتا دھوپ کے میلے میں لوگوں کو
رسولوں کو بھی اُنؐ کا امتی ہونے کی حسرت تھی
— Sahar Farani\
دل جھوم اٹھا اور چلنے لگی رحمت کی ہوا سبحان اللہ
نادار کی بخشش کا ساماں ہر غم کی دوا دکھ کا درماں
اپنوں کے لیےبھی رحمت کل غیروں کےلیےبھی ہادیء سبل
جب کثرتِ غم سے گھبرا کر ہم سوۓ مدینہ تکتے ہیں
ہم جیسے نکموں پرانکی ہے کتنی عنایت روز افزوں
یہ اوج وشرف افلاک ہدف حیران ہیں سب اسلاف وخلف
سرکار کےدرپراے خالدؔ تکرارِ دعا کا ذکر ہی کیا
— Khalid Mehmood Khalid\
یا اِلٰہی ذیلِ ایں شیراں گِرفتم بندہ را
بے وسائل آمدَن سوئے تو منظورِ تو نیسْتْ
مَظْہَرِ عَون اَنْد و اِینجا مَغز حرفی بیش نیسْتْ
نیسْتْ عَون از غیرِ تو بَل غیرِ تو خود ہِیچ نیسْتْ
— Ala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan Barelvi\