وصفِ رُخ اُن کا کیا کرتے ہیں شرحِ والشمس وضُحٰے کرتے ہیں
ماہِ شق گَشْتہ کی صورت دیکھو کانپ کر مہر کی رَجعت دیکھو
تُو ہے خورشیدِ رسالت پیارے چُھپ گئے تیری ضِیا میں تارے
اے بَلابے خِرَدیِ کفّار رکھتے ہیں ایسے کے حق میں اِنکار
اپنے مولیٰ کی ہے بس شان عظیم جانور بھی کریں جن کی تعظیم
رِفعت ذِکر ہے تیرا حصّہ دونوں عالم میں ہے تیرا چرچا
اُنگلیاں پائیں وہ پیاری پیاری جن سے دریائے کرم ہیں جاری
ہاں یہیں کرتی ہیں چڑیاں فریاد ہاں یہیں چاہتی ہے ہرنی داد
آستیں رحمتِ عالم الٹے کمرِ پاک پہ دامن باندھے
جب صبا آتی ہے طیبہ سے اِدھر کِھلکِھلا پڑتی ہیں کلیاں یکسر
تُو ہے وہ بادشہ کون و مکاں کہ ملک ہفت فلک کے ہرآں
جس کے جلوے سے اُحد ہے تاباں معدنِ نور ہے اس کا داماں
کیوں نہ زیبا ہو تجھے تا جوری تیرے ہی دم کی ہے سب جلوہ گری
ٹُوٹ پڑتی ہیں بلائیں جن پر جن کو ملتا نہیں کوئی یاور
لب پر آجاتا ہے جب نامِ جناب منھ میں گُھل جاتا ہے شہدِ نایاب
لب پہ کس منہ سے غمِ الفت لائیں کیا بلا دِل ہے الم جس کا سنائیں
اپنے دِل کا ہے اُنہیں سے آرام سونپے ہیں اپنے اُنہیں کو سَب کام
— Ala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan Barelvi\