فراق مدینہ میں دل رو رہا ہے
میری آنکھ سے چھینا طیبہ کا منظر
دکھایا ہے دن یہ مقدر نے مجھ کو
میرے دل کے ارماں رہے دل ہی دل میں
سکوں تھا مجھے کوچہ مصطفیٰﷺ میں
نہ دنیا کی فکریں نہ غم تھا وہاں پر
میں لفظوں میں کیسے بتا دوں کسی کو
پہاڑوں کی دلکش قطاروں کے جلوے
انہیں چومنا ہاتھ لہرا کر پیہم
عقیدت سے خاک مدینہ اٹھا کر
کبھی چلتے چلتے اٹھا کر تنکے
کبھی دید سرور کی حسرت میں منبر
حسین وہ پیاری وہ جنت کی کیاری
کبھی دیکھ کر سبز گنبد کا منظر
کبھی حاضری کے لیے گھر سے چل کر
کبھی روتے روتے کبھی دل ہی دل میں
مدینے سے میں دور آکر پڑا ہوں
بچھڑ کر عبید رضا تیرے در سے
بلا لو عبید رضا کو بلا لو
— Ubaid Raza\
