تیرے دیار کے احسان بھولتے ہی نہیں
وہ جالیاں ، وہ دریچے وہ ممبر و محراب
جبیں پہ نور ، نظر میں ادب ، دلوں میں گداز
بوقتِ اذنِ حضوری ، وہ آنسوؤں کی تڑپ
ملائکہ بھی یہ جنت میں جا کہ کہتے ہیں
نظر بدل گئی ، منظر بدل گئے سارے
— Unknown
تیرے دیار کے احسان بھولتے ہی نہیں
وہ جالیاں ، وہ دریچے وہ ممبر و محراب
جبیں پہ نور ، نظر میں ادب ، دلوں میں گداز
بوقتِ اذنِ حضوری ، وہ آنسوؤں کی تڑپ
ملائکہ بھی یہ جنت میں جا کہ کہتے ہیں
نظر بدل گئی ، منظر بدل گئے سارے
— Unknown
دل درد سے بسمل کی طرح لوٹ رہا ہو
گر وقت اجل سر تری چوکھٹ پہ جھکا ہو
ہر وقت کرم بندہ نوازی پہ تلا ہے
دیکھا نہیں محشر میں تو رحمت نے پکارا
آتا ہے فقیروں پہ انہیں پیار کچھ ایسا
تم کو تو غلاموں سے ہے کچھ ایسی محبت
شکر ایک کرم کا بھی ادا ہو نہیں سکتا
— Unknown
نعتِ رسولؐ میرا اثاثہ بنا رہے
لفظوں کو جوڑ کا حاصل ہے جو ہنر
سانسوں میں ہو درود کی خوشبو بسی ہوئی
میرے خدا مجھے بھی وہ اسباب کر عطا
آۓ زباں پہ اسمِ محمدؐ جو کوثریؐ
— Shahid Kausari\
مژدہ باد اے عاصیو! شافِع شہِ اَبرار ہے
عرش سا فرشِ زمیں ہے فرشِ پا عرشِ بریں
چاند شق ہو پَیڑ بولیں جانور سجدے کریں
جن کو سُوئے آسماں پھیلا کے جل تھل بھر دئیے
لَب زُلالِ چَشمَہ ء کن میں گندھے وقت خمیر
گورے گورے پاؤں چمکا دو خدا کے واسطے
تیرے ہی دامن پہ ہر عاصِی کی پڑتی ہے نظر
جوشِ طُوفاں بحرِ بے پایاں ہوا نا سازگار
رَحْمَۃُ لِّلْعٰلَمِیں تیری دُہائی دَب گیا
حیرتیں ہیں آئینہ دارِ وفورِ وَصفِ گُل
گُونج گُونج اُٹھے ہیں نغماتِ رضاؔ سے بوستاں
— Ala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan Barelvi\
جاتے ہیں سوئے مَدینہ گھر سے ہم
مار ڈالے بے قراری شوق کی
بے ٹھکانوں کا ٹھکانہ ہے یہی
تشنگیٔ حشر سے کچھ غم نہیں
اپنے ہاتھوں میں ہے دامانِ شفیع
نقش پا سے جو ہوا ہے سرفراز
گردنِ تسلیم خم کرنے کے ساتھ
گور کی شب تار ہے پر خوف کیا
دیکھ لینا سب مرادیں مل گئیں
کیا بندھا ہم کو خدا جانے خیال
جانے والے چل دئیے کب کے حسنؔ
— Hassan Raza Khan Barelvi\
رُخ دن ہے یا مہرِ سما یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
بلبل نے گُل ان کو کہا قُمری نے سَروِ جانفزا
خورشید تھا کس زور پر کیا بڑھ کے چمکا تھا قمر
ڈر تھا کہ عصیاں کی سزا اب ہوگی یا روزِ جزا
دن لَھوُ میں کھونا تجھے شب صبح تک سونا تجھے
رزقِ خدا کھایا کیا فرمانِ ھق ٹالا کیا
ہے بلبلِ رنگیں رضاؔ یا طوطئ نغمہ سرا
— Ala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan Barelvi\
اسلام کا اصول
کوئی خداۓ پاک کو پہچانتا نہیں
یہ سب ہے میرے کملی والے کا صدقہ
زمین، آسمان، چاند، تارے نہ ہوتے
برستی نہ رحمت کی رم جھم فہر ان
طفیلِ محمد یہ دنیا بنی ہے
نہ آغاز ہوتا نہ انجام ہوتا
کہاں پھر یہ خلقت کی تخلیق ہوتی
نہ داؤد، یحییٰ نہ نوح نہ زکریا
کبھی ختم ہوتا نہ دورِ جہالت
نہ اللہ اکبر کی آتی صدائیں
نہ اللہ کی کوئی کرتا عبادت
خدا جانے کیا ہوتا محشر میں انور
زمانے میں ہر سمت رہتا اندھیرا
— Unknown
تیری رحمت یہ شب گھڑی لائی
میرے گلشن پہ بھر بہار آئی
درد فرقت سے دل میرا مضطر
پھنس گیا جب غموں کے چنگل میں
چار جانب تھے میرے رنج و الم
اشک ہوتے ہیں آنکھ سے جاری
یا نبی ﷺ دید ہوگی کب تیری
یاسمین میں نہ وہ سمن میں ہے
— Unknown
ماہ سیما ہے اَحْمدِ نوری
نور والا ہے اَحْمدِ نوری
نہ کھلا کیا ہے اَحْمدِ نوری
دُور پہنچا ہے اَحْمدِ نوری
نور سینہ ہے اَحْمدِ نوری
وَصف اَجْلٰی ہے اَحْمدِ نوری
عہدِ اَوفی ہے اَحْمدِ نوری
جلب تقویٰ ہے اَحْمدِ نوری
نجم سے ماہ مَہ سے مِہر ہوا
مہر سے ماہ مَہ سے نجم ہوا
اُس کے مُدرَک ہیں فوقِ طبیعات
برکاتی جہاں جمی ہو برات
شمس دیں کی شعاؤں کا تیرے
تار اَنظار مرحمت سے بُنا
رُشد و اِرشاد کا ترے سر پر
قادِریت ہے چشتیت سے بہم
رَفع قومہ میں وَضع سجدے میں
ذِکر ایسا کہ کلمہ کی اُونگلی
قومہ سیدھا رکوع دوہرا ہے
محض اِثبات کا مقامِ بلند
میرا مرشد ہے مصحف ناطِق
مہبط فضل شیخ تا برکات
حرمین اس کے پیرو اعلی پیر
اِسم اَسمٰی ترا تَعَا َلی ا للّٰہ
آسماں سے اُترتے ہیں اَسماء
نام بھی نور حسن تام بھی نور
نورِ سرکارِ ذات دُونا ہے
کیجئے عکس مثل کہ ناشئہ کا
قرب اس اعلیٰ سے ہے تجھے جس کا
لا ؤ لد رہتے ہیں تمام اَبدال
پسر و نَبَسَۂ و نبیرۂ نور
اس کی سی ماں جہان میں کس کی
شکل دیکھو تو نور کی تصویر
نام پوچھو تو نور کی تنویر!
اَنجمن ہو رہی مشرقِ نور
بام و دَر کی ضیا سے روشن ہے
طالبانِ حریمِ حق کے لیے
ڈَور گنڈے پہ چار عنصر کے
بند تعویذ سے کشائش نے
نقشے جمتے ہیں تیری ہمت سے
اچھے پیارے کے دل کا ٹکڑا ہے
بھولی صورت ہے نور کی مورت
گلِ بغداد کی مہک میں بسا
ابر برکات کی ٹپک میں دُھلا
ہے مصفی عسل لبوں سے رَواں
وہ عوارِفؔ کا نور بار سراج
اس کے اِرشاد ہیں دلیل یقین
اس کے لب ہیں کلید کشف قلوب
گہر بے بہائے نورؔ و بہاؔ
سید الانبیا رسول ا للّٰہ
مرجع الاولیاء علی وَلی
وہ حسینی رَچی ہوئی رنگت
زِینت زَین عابدیں سے ترا
عم اَعظم ہیں حضرتِ باقر
صادِقؔ رَفض سوز کا پرتو!
شانِ کاظمؔ دِکھا کہ َمعْدنِ علم
اے رضاؔ کے رضی رضا کے رضاؔ
فیض معروفؔ سے ترا معروف
سِر میں ساری ہے سرّ پاک ترے
سَیِّدُؔ الطَّائفہ کا طائف ہے
شبل شبلی قوم شرزا پر
عبد واحد کے بحر وحدت سے
بوالفرحؔ کے لئے فرح دیدے
حسنؔ بوالحسن پہ تیرا حسن
بوسعیدؔی سعید کتنا سعد
غوثِؔ کونین کی غلامی سے
عبدؔ رَزَّاق ہیں وَسیلۂ رِزْق
نصر و بونصرؔ اس کے نصر نصیر
تازی کوپل علیؔ کی ڈالی میں
شاہِؔ موسیٰ کے گورے ہاتھوں کا
حسنیؔ اَحْمدِی حسینؔ و حمید
دیکھ لو جلوۂ بہائُؔ الدین
گل خندانِ باغِ ابراہیمؔ
خود بھکاریؔ کے دَر کا سائل ہے
نورِ قاضی ضیا ءکے پرتو سے
اے جمالِ جمیل شانِ جمالؔ
حمد کے دونوں پاک ناموں کا
شانِ اَنوارِ فضل فضلؔ ا للّٰہ
برکاتی چمن کا بوٹا ہے
باغِ آلِ محمدی ہے نہال
رہے حمزہؔ کا میکدہ جس کی
آلِ اَحْمد ہیں مصطفی کے چاند
خسرو اَولیا ہیں آلِ رسول
میرے آقا کا لاڈلا بیٹا
شب بدعت سے کہئے ہو کافور
رفض و تفضیل و ندوہ کا قاتل
سیدھا سادھا ہے لیکن اُلٹوں سے
دیکھے بھالے ہیں شہر دَہر کے شیخ
خلفائے ثَلٰثَہ کا ہے غلام
ذائقہ ان کا تا زَباں ہی نہیں
بے تقیہ بنا کریں عیار
بے محاسن ہیں پیر چوٹی کے
یاں نہیں کفر پہ چمر توحید
کھو کے سدھ بدھ بنے سنیچر پیر
بدمَذاقوں کو تیرا شہد ہے تلخ
جلتے ہیں تیرے گرم چرچے سے
اے علم تعزیوں کے مجرے سے دُور
شبِ باطل کا اب سویرا ہے
ظلمتِ غم تو اور مجھ کو دیا ہے
تیری رحمت پہ تیری نعمت پر
جس کا میں خانہ زاد اُس کا تو
میرے آقا کا تجھ پہ اور تیرا
تیرہ بختی نے کر دیا اَندھیر
نورِ اَحْمدِ مجھے بھی چمکا دے
لاکھ اپنا بنائیں غیر اُوسے
دودھ کا دودھ پانی کا پانی
وِرَد کھو دے کہ خواہشوں نے بہت
تو ہنسا دے کہ نفس بد نے ستم
خاک ہم نے اُڑائی یوہیں سہی
خاندانی کرم قدیمی جود
پوتڑوں کا کریم اِبن کریم
میرے حق میں مخالفوں کی نہ سن
اِتنا کہدے رضاؔ ہمارا ہے
ہیں رضاؔ کیوں ملول ہوتے ہو
— Ala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan Barelvi\
حکمِ یزداں سے ملا، اذنِ پیمبر سے ملا
کب سے اس خانۃ آفت میں مقیدی تھی میں
جلد لے چل مجھے اے شوقِ سفر ان کی طرف
قُلزمِ اشک بہاتی ہوئی پہنچوں گی وہاں
ایک اک بوند سے سو پیاس بجھالوں گی میں
رمزِ تخلیق جہاں، خلقتِ احمد میں نہاں
از ازل تا بہ ابد، راہ ہدایت ہے کھلی
لکھ سکا کون سرِ عرش ملاقات کا حال
اے مرے خواب دکھا نقشِ کفِ پاۓ رسولؐ
ات زمانے، تو مجھے روندکے رکھ دے لیکن
عصر حاضر کے سوالات کی زد پر ہے یہ عقل
زخم کھا کھا کے دعائیں تھیں لبوں پر جسؐ کے
دیں کی تلقین کا آغاز ہوا تھا جس جا
انؐ کی امت میں رکھا بختِ رسا نے مجھ کو
— Shahida Hassan\