جو ہو سر کو رَسائی اُن کے دَر تک
وہ جب تشریف لائے گھر سے دَر تک
دُہائی ناخدائے بے کساں کی
الٰہی دل کو دے وہ سوزِ اُلفت
نہ ہو جب تک تمہارا نام شامل
گزر کی راہ نکلی رَہ گزر میں
خدا یوں اُن کی اُلفت میں گمادے
بجائے چشم خود اُٹھ تا نہ ہو آڑ
تری نعمت کے بھوکے اَہل دولت
نہ ہوگا دو قدم کا فاصلہ بھی
تمہارے حُسن کے باڑے کے صدقے
شبِ معراج تھے جلوے پہ جلوے
بلائے جان ہے اب وِیرانیٔ دل
نہ کھول آنکھیں نگاہِ شوقِ ناقص
جہنم میں دھکیلیں نجدیوں کو
— Hassan Raza Khan Barelvi\
