سُونا جنگل رات اندھیری چھائی بدلی کالی ہے
آنکھ سے کاجل صَاف چُرا لیں یاں وہ چور بلا کے ہیں
یہ جو تجھ کو بلاتا ہے یہ ٹھگ ہے مار ہی رکھے گا
سَونا پاس ہے سُونا بن ہے سَونا زہر ہے اُٹھ پیارے
آنکھیں ملنا جھنجھلا پڑنا لاکھوں جمائی اَنگڑائی
جگنو چمکے پتا کھڑکے مجھ تنہا کا دِل دھڑکے
بادل گرجے بجلی تڑپے دَھک سے کلیجا ہو جائے
پاؤں اُٹھا اور ٹھوکر کھائی کچھ سنبھلا پھر اَوندھے مُنھ
ساتھی سَاتھی کہہ کے پکاروں ساتھی ہو تو جواب آئے
پھر پھر کر ہر جانب دیکھوں کوئی آس نہ پاس کہیں
تم تو چاند عرب کے ہو پیارے تم تو عجم کے سُورج ہو
دُنیا کو تُو کیا جانے یہ بس کی گانٹھ ہے حرافہ
شہد دکھائے زہر پلائے، قاتل، ڈائن، شوہر کش
وہ تو نہایت سَستا سودا بیچ رہے ہیں جنت کا
مولیٰ تیرے عفو و کرم ہوں میرے گواہ صفائی کے
— Ala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan Barelvi\