آسماں گر تیرے تلووں کا نظارہ کرتا
طوفِ روضہ ہی پہ چکرائے تھے کچھ ناواقف
صرصرِ دشت مدینہ جو کرم فرماتی
چھپ گیا چاند نہ آئی ترے دیدار کی تاب
یہ وہی ہیں کہ گرو آپ اور ان پر مچلو
ہم سے ذَرَّوں کی تو تقدیر ہی چمکا جاتا
دُھوم ذَرَّوں میں اَنَا الشَّمْس کی پڑ جاتی ہے
آہ کیا خوب تھا گر حاضرِ دَر ہوتا میں
شوق و آداب بہم گرم کشاکش رہتے
آنکھ اُٹھتی تو میں جھنجھلا کے پَلک سی لیتا
بیخودانہ کبھی سجدہ میں سوئے دَر گرتا
بام تک دل کو کبھی بالِ کبوتر دیتا
گاہ مرہم نہیٔ زخم جگر میں رہتا
ہمرہِ مہر کبھی گردِ خطیرہ پھرتا
صحبتِ داغِ جگر سے کبھی جی بہلاتا
دلِ حیراں کو کبھی ذَوقِ تپش پر لاتا
کبھی خود اپنے تحیر پہ حیراں رہتا
کبھی کہتا کہ یہ کیا بزم ہے کیسی ہے بہار
ھی کہتا کہ یہ کیا جوشِ جنوں ہے ظالم
ستھری ستھری وہ فضا دیکھ کے میں غرقِ گناہ
کبھی رحمت کے تصور میں ہنسی آجاتی
دِل اگر رَنجِ مَعاصی سے بگڑنے لگتا
یہ مزے خوبیٔ قسمت سے جو پائے ہوتے
موت اس دن کو جو پھر نام وطن کا لیتا
اے حسنؔ قصدِ مدینہ نہیں رونا ہے یہی
— Hassan Raza Khan Barelvi\