اللہ اللہ کے نبی سے
دِن بھر کھیلوں میں خاک اُڑائی
شب بھر سونے ہی سے غرض تھی
ایمان پہ مَوت بہتر او نفس
او شہد نمائے زہر دَر جام
گہرے پیارے پرانے دِل سوز
تجھ سے جو اٹھائے میں نے صَدمے
اُف رے خودکام بے مروّت
تُو نے ہی کیا خدا سے نادِم
کیسے آقا کا حکم ٹالا
آتی نہ تھی جب بدی بھی تجھ کو
حد کے ظالم سِتم کے کٹر
ہم خاک میں مل چکے ہیں کب کے
ہے ظالم! میں نباہوں تجھ سے
جو تم کو نہ جانتا ہو حضرت
اللہ کے سَامنے وہ گن تھے
رہزن نے لُوٹ لی کمائی
اللہ کنوئیں میں خود گِرا ہوں
ہیں پُشتِ پناہ غوثِ اعظم
— Ala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan Barelvi\
