اَلوَداع اے سبز ُگنبد کے مکیں
اَلوَداع اے مظہرِ ذاتِ خدا
اَلوَداع اے شہرِ پاکِ مصطفیٰ
جارہا ہے اب ہمارا قافلہ
یاد تیری جس گھڑی بھی آئے گی
اے دلوں کے چین اے پیارے نبی
دُور سے آئے تھے پردیسی غلام
آستانہ سے وَداع ہوتے ہیں اب
چشمِ رَحمت سے نہ تم کرنا جدا
اے مدینہ والو تم سب خوش رہو
عرض اتنی ہے مگر اے دوستو
آخری دِیدار ہے اے زائرو
کیا خبر ہے خوب دل میں سوچ لو
یہ کوئی دَم میں چھپا جاتا ہے اب
پھر کہاں تم اور کہاں یہ دوستو
ہے دعا سالکؔ کی اے بارِ خدا
— Hakeem Ul Umat Mufti Ahmed Yar Khan Naeemi\
