الاماں قہر ہے اے غوث وہ تِیکھا تیرا
بادلوں سے کہیں رُکتی ہے کڑکتی بجلی
عکس کا دیکھ کے منھ اور بپھَر جاتا ہے
کوہ سَرمُکھ ہو تو اِک وار میں دو پرَ کالے
اس پہ یہ قہر کہ اب چند مخالِف تیرے
عَقْل ہوتی تو خدا سے نہ لڑائی لیتے
وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکْ کا ہے سایہ تجھ پر
مِٹ گئے مِٹتے ہیں مِٹ جائیں گے اَعدا تیرے
تُو گھٹائے سے کسی کے نہ گھٹا ہے نہ گھٹے
سَمِّ قاتل ہے خدا کی قَسَم اُن کا اِنکار
میر ے سَیَّاف کے خنجر سے تجھے باک نہیں
ابنِ زَہر اسے ترے دل میں ہیں یہ زہر بھرے
بازِ اَ شْہَب کی غلامی سے یہ آنکھیں پھرنی
شاخ پر بیٹھ کے جڑ کاٹنے کی فِکْر میں ہے
حق سے بد ہو کے زمانہ کا بھلا بنتا ہے
سگِ دَر قہر سے دیکھے تو بِکھرتا ہے ابھی
غَرض آقا سے کروں عَرْض کہ تیری ہے پناہ
حُکْم نافِذ ہے تِرا خامَہ تِرا سیف تِری
جس کو للکار دے آتا ہو تو اُلٹا پھر جائے
کنجیاں دل کی خدا نے تجھے دِیں ایسی کر
دِل پہ کندہ ہو ترا نام کہ وہ دُزدِ رَجیم
نزع میں ، گَور میں ، ِمیزاں پہ، سر ِپُل پہ کہیں
دُھوپ محشر کی وہ جاں سَوز قِیامت ہے مگر
بہجت اس سر کی ہے جو ’’ بَہْجَۃُ الْاَسْرَار‘‘ میں ہے
اے رضاؔ چیست غم ار جملہ جہاں دُشمنِ تُست
— Ala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan Barelvi\