جو داغِ عشق شہ دیں ہیں دل پہ کھائے ہوئے
تمہارے دَر کے گداؤں کے واسطے یا شاہ
اُٹھا کے آنکھ نہ دیکھے وہ حور و غلماں کو
ہے عاشقوں کی نظر تیرے رُخ پہ باطن میں
ہے ان کے دفن پہ قربان جان عالم کی
ٹھہر ذرا مَلک الموت دیکھ لینے دے
اَجل ہے سر پہ کھڑی دیر کر نہ اے غافل
نہ جائیں گے کہیں ہل کر اس آستانے سے
وہ دن نصیب ہو ہاتھوں میں جالیاں تھامے
فرشتے کرتے ہیں یوں زائروں کا اِستقبال
کچھ ایک ہم ہی نہیں ہیں دَرِ نبی کے گدا
خدا نے اُن کو کیا سربلند عالم میں
فلک پہ عرش پہ جنت میں تیرا اسم شریف
گلاب بلکہ سبھی پھول یَارَسُوْلَ اللہ
بہشت و خلد ہیں کیا بلکہ کل خزانوں کا
عجب ہے کیا جو کھلے اُن پہ غیب کے اَسرار
سنا ہے جب سے کہ یُعْطِیْکَ رَبُّکَ تَرْضٰی
ترا کرم کہ تو فرمائے اُمتی ہر دم
زہے نصیب کہ اُمت کی مغفرت کے لیے
غلام اُن کے گرفتار کیوں ہوں محشر میں
اگرچہ نیک عمل کچھ نہیں ہمارے پاس
سوا حضور کے کوئی نہیں رفیق اپنا
کچھ اس میں شک نہیں بد ہیں گنہگار ہیں ہم
حضور حشر میں بگڑی گنہگاروں کی
سفید نامۂ اَعمال کیوں نہ ہوں اُن کے
ندا یہ حشر میں ہوگی کہ دیکھ لیں عشاق
ہے منکروں کے لیے روزِ حشر نارِ جحیم
مَدد کرو کہ تمہارے غلام کے پیچھے
جمیلؔ قادری نعت نبی سنائیں گے
جمیلؔ قادری چمکے نہ کیوں کلام ترا
— Jamil Ur Rehman Qadri\
