گُنَہگاروں کا روزِ مَحشر شَفیع خَیْرُ الْاَنَام ہو گا
کبھی تو چمکے گا نجمِ قسمت ہِلال ماہِ تمام ہوگا
پڑاہوں میں اُن کی رہ گزرمیں پڑے ہی رہنے سے کام ہوگا
وہی ہے شافِع وہی مُشَفَّع اسی شفاعت سے کام ہوگا
انہیں کا منہ سب تکیں گے اُس دن جو وہ کریں گے وہ کام ہوگا
اَنا لَھاکہہ کے عاصِیوں کو وہ لیں گے آغوشِ مَرحَمت میں
اِدھروہ گرتوں کوتھام لیں گے اُدھرپیاسوں کوجام دیں گے
کہیں وہ جلتے بجھاتے ہوں گے کہیں وہ روتے ہنساتے ہوں گے
ہوئی جو مُجرِم کو بازیابی تو خوفِ عصیاں سے دَھج یہ ہوگی
حضورِ مرشد کھڑا رہوں گا کھڑے ہی رہنے سے کام ہوگا
خدا کی مرضی ہے اُن کی مرضی ، ہے اُن کی مرضی خدا کی مرضی
جدھر خدا ہے اُدھر نبی ہے، جدھر نبی ہے ادھر خدا ہے
اِسی تَمَنّا میں دم پڑا ہے، یہی سہارا ہے زندگی کا
حضورِ رَوضہ ہوا جو حاضر تو اپنی سج دھج یہ ہوگی حامد
— Muhammad Hamid Raza Khan\
