گل بوستانِ نبی غوثِ اعظم
جسے چاہے کردے عطا سربلندی
ولی ہوگیا وہ اِشارے سے تیرے
بڑھا ہاتھ تیری طرف مفلسوں کا
وَلی بن گئے دَم میں فُسَّاق و رَہزن
وَلی قطب و اَبدال و اَوتاد و کامل
تو وہ گل ہے باغِ حسین و حسن کا
قدم کیوں نہ لیں اَولیا چشم و سر پر
خدا تک نہ کیونکر ہو اُس کی رَسائی
تو ہے شیخ کل اور سب تیرے چیلے
وِلایت کا ہے مُلک زیرِ حکومت
وِلایت کرامت کو ہے ناز جن پر
ملے ہیں ترے جد اَمجد سے تجھ کو
تمہیں سب ہے معلوم تم پر ہے روشن
ہزاروں اَلم سر پہ اَور میں اکیلا
ہے بگڑی ہوئی آج کل میری قسمت
بدل دے تو اچھی سے اچھے کا صدقہ
اِشارے سے تیری نگاہِ کرم کے
مری جھولیاں بھی مرادوں سے بھردے
پھرے دَر بدر کیوں بھکاری بھٹکتا
تو خونِ شہیداں کے صدقے میں دھو دے
لگادے سہارا مدد کر خدارا
ہو سرسبز شاداب باغِ تمنا
طفیل پیمبر یہی مُدعا ہے
اگر تیری اِمداد آئے مدد کو
ترے ذکر میں عیش و عزت سے گزرے
خدا کے لیے ایسا بے خود بنادے
مرے مولا آجاؤ دل میں کہ نکلے
میں سمجھوں کہ اب جان میں جان آئی
ہوں اِیمان کے ساتھ دنیا سے رخصت
سنا لَا تَخَفْ تیرا فرمانِ عالی
قیامت کے دن ہوں گے تیری بدولت
سیہ کار کی قبر میں ہے اندھیرا
ذرا کھولدے اپنا نورانی چہرہ
اگر بہرِ اِمْداد دِل سے پکاریں
جو لڑکی تھی قبضے میں دیوِ لَعِیں کے
صبا دَست بستہ سلام عرض کرنا
جمیلؔ اپنی جھولی کو پھیلا بھریں گے
— Jamil Ur Rehman Qadri\
