کیا لکھوں میں بھلا رَسُوْلُ اللہ
کوئی دکھلا تو دے زمانے میں
کھلی تفسیر ہے رَفَعْنَا کی
سارا عالم بنا تمہارے سبب
تم نہ ہوتے تو کچھ نہیں ہوتا
نہ تو پیدا ہوا نہ ہوگا کبھی
سب نے تجھ سے سنا کلامِ خدا
وصلِ حق کے لیے ملا واللہ
میں رضا کا رضا تمہارے ہیں
میں رضا پر فدا رضا تم پر
تم کو پایا خدائے برتر سے
ما سوی اللہ حق تعالیٰ نے
سگِ دَر حکم کے خلاف کرے
سب سلاطینِ دَہر دیتے ہیں
بادشاہانِ دَہر پر بیٹھا
مَظہَرِ ذاتِ حق تمہاری ذات
گو ہو ظاہر میں تم بشکلِ بشر
تم مرے بادشاہ بندہ نواز
سارا عالم تمہارا پرتو ہے
سب ہدایت کے آپ کی محتاج
قدرتِ رب کا آئینہ ٹھہرا
اَنبیا دیتے ہیں خدا کے حضور
حشر تک تم سے فیض پائیں گے
ہم غلاموں پہ ہے تمہارا فضل
بوالبشر کیا کہ سارے عالم کے
سب تمہارے حضور فریادی
ہاتھ خلقت کا مانگنے کے لیے
پاتے شمس و قمر ہیں لیل و نہار
جاں نثاروں کی سجدہ گاہ کہوں
تیرے دَر پہ مروں تو آجائے
خاک ہے تیرے آستانے کی
ہے فرشتوں کی آنکھ کا سرمہ
کلمہ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہ
حق کی توحید کا دوعالم میں
دین اسلام کلمۂ توحید
تم سے اسلام کی ملی دولت
تم نے بانٹا دیا ہوا رب کا
کیا نظر آئے دل کے اندھوں کو
تم جو چاہو کرو کہ ہو مختار
تم کو رب نے کیا سمیع و بصیر
تم ہو واقف تمام غیبوں سے
ذَرَّہ ذَرَّہ نہ کیوں ہو تم پہ عیاں
کیا کروں عرض تم پہ ظاہر ہے
ہاں ہمارا بھی بخت چمکا دو
ہے تو ہی قاسم حیات و ممات
نور دے قلب و چشم روشن کر
چشم رحمت کے اِک اشارے سے
جدھر اُٹھے نگاہ آئے نظر
ذاتِ اَقدس میں اپنی کرکے فنا
تو ہی تو میرے قلب میں بس جائے
میرے قلب و دِماغ میں مولیٰ
ہم پہ برسا دو فضل کی بارش
کھول گیسو کہ تیری امت پر
اپنی رحمت سے کیجیے لِلّٰہ
رہنمائی کرو کہ مل جائے
پیش رب جس سے ہوں نہ شرمندہ
بھر دو کشکول میرا رحمت سے
المدد المدد پریشانم
بھردو جھولی کہ دیر سے ہے کھڑا
تم کو قاسم کیا ہے رَازِق نے
رِزق رب کا ہے تم کھلاتے ہو
تم ہو مختار جس کو چاہو دو
تم سوا کون ہے زمانے میں
بہ طفیلِ حسین کردو رہا
کون بخشائے گا بروزِ جزا
ہے دعا تیرے نامِ نامی پر
تیری چوکھٹ پہ دم نکل جائے
بہرِ تسکین ہاتھ رکھ دیجے
نزع میں اور گور میں مجھ کو
پیش منکر نکیر مجھ کو جواب
پار بیڑا مرا لگا دیجے
وہ ہے منکر خدائے برحق کا
وہ جہنم کا بن گیا کندہ
جو ترے دوستوں سے بغض رکھے
جو تیرے دشمنوں کو سمجھے دوست
جو کہ گنگوہی کی کرے تعریف
تھانوی کو جو پیشوا جانے
قادیانی کو جو کہے مومن
پیرِ نیچر کو سمجھے جو مسلم
ان خبیثوں کو جو کہے کافر
ان شیاطیں پہ جو کرے لعنت
گاندھویہ وہابیہ کے عدو
میرے احبابِ اہلسنّت سے
— Jamil Ur Rehman Qadri\