میرے مولا میرے سروَر رحمۃٌ لِّلْعالمیں
لاتے ہی تشریف فرمایا کہ ھَبْ لِیْ اُمَّتِیْ
دستِ اَقدس سینہ پر ہو رُوح کھنچتی ہو مری
روزِ محشر شانِ رحمت کے کرشمے دیکھنا
میں پیامِ زندگی سمجھوں اگر یوں موت آئے
قدرتیں رب نے تمہارے تم کو دی ہیں بیشمار
مَدح خوانی کا صلہ دیدار ِحق خلد بریں
عالم علم لدنی آپ کو حق نے کیا
کفر کی ظلمت چھنٹی جب نور چمکا آپکا
اپنے دامن میں چھپا لینا خدا کے واسطے
دل میں آنکھوں میں جگہ ہے آپ ہی کے واسطے
میں بھکاری در بدر کب تک پھروں خستہ خراب
ہم کمینے روز و شب سوتے ہیں بالکل بے خبر
مَظہَر ذاتِ خدا محبوبِ رَبِّ دوسرا
جس نے دیکھی تیری صورت حق اُسے یاد آگیا
تو نے فرمایا ھُوَ الْمُعْطِیْ وَ اِنِّیْ قَاسِم
روزِ محشر عاصیوں کو بخشوانے کے لیے
ہم کو خواہش ہے نہ دنیا کی نہ کچھ عقبیٰ کی فکر
ہے نہ کوئی تیرا ثانی اور نہ ہوگا تا اَبد
دُور نے نزدیک نے آواز یکساں ہی سنی
ہم سیہ کاروں کی بخشش کی کوئی صورت نہیں
میری طاعت اور محبت میں رہو بستہ کمر
دِین کو چھوڑو نہ دنیا کے لیے اے مومنو
جالیاں ہوں ہاتھ میں اور اِلتجائیں لب پہ ہوں
تیرے تیری آل کے صدقے میں اے جانِ جہاں
تیرا جلوہ تھا شبِ اَسریٰ کہ عرش و فرش میں
کیا زمین و آسماں کیا اَنبیا کیا اَولیا
بس خدا اُن کو نہ کہنا اور جو چاہو کہو
ذِکر تیرا دِلکشا اور نام تیرا جانفزا
سب فصیحانِ زمانہ دَم بخود حیرت میں ہیں
رَمزِ محبوب و محب میں تیسرے کو دَخل کیا
پنجتن ہیں فاطمہ خیر النسا شیرِ خدا
سایۂ عرشِ الٰہی میں کھڑا کرنا مجھے
بے پڑھے عالم نے ہر عالم پہ علم اِلقا کیے
پنجۂ قدرت سنوارے جن کو وہ ہیں مشک ساں
تم سخی داتا ہو میں اَدنیٰ بھکاری آپ کا
نیک بندوں پر تو رہتی ہے عنایت روز و شب
سنتے ہی جَاؤُکَ اِستغفار میں کرنے لگا
خادِمِ دَرباں بنالو بندۂ دَرگاہ کو
تشنگیِ شربتِ دِیدار سے مُضْطَر ہوں میں
خوفِ محشر کیوں جمیلؔ قادِری رَضوی کو ہو
— Jamil Ur Rehman Qadri\