کون ہے وہ جو لکھے رُتبۂ اَعلی اُن کا
کیوں دل اَفروز نہ ہو جلوئہ زیبا اُن کا
نعمتوں کا ہے خزانہ درِ والا اُن کا
ایک عالم ہی نہیں والہ و شیدا اُن کا
تشنگی دِل کی بجھا دیتا ہے ِچھینٹا اُن کا
سربسر نورِ خدا ہے قد بالا اُن کا
مَلک و جن و بشر پڑھتے ہیں کلمہ اُن کا
کونسی شے ہے وہ جس پر نہیں قبضہ اُن کا
زندگی پاتا ہے کونین میں ُمردہ اُن کا
حشر میں پل سے اُتارے گا سہارا اُن کا
مجھ سا عاصی نہ سہی کوئی مگر اے زاہد
ذِکر سے ٹیک لگی دل کو خدا یاد آیا
بھیک لینے کو چلے آتے ہیں لاکھوں منگتا
چاند سورج شبِ اَسریٰ میں مقابل ہی نہ تھے
بوسے لیتا کبھی آنکھوں کو منور کرتا
آنکھ اٹھا کر نہ کبھی دیکھے وہ جنت کی طرف
جان و دل کرتیں فدا نقش قدم پر اُن کے
حشر والے یہ کہیں دیکھ کے محشر میں مجھے
دی منادی نے ندا حشر میں اے مشتاقو
سب مہینوں میں مبارک ہے رَبیع الاوَّل
میں رضا کا ہوں رضا اُن کے تو میں اُن کا ہوں
تجھ کو کیا فکر ہے بخشش کی جمیلؔ رضوی
— Jamil Ur Rehman Qadri\
