مٹتے ہیں جہاں بھر کے آلام مدینے میں
آقا کی عنایت ہے ہرگام مدینے میں
اے حاجیو! رو رو کر کہدینا سلام ان سے
آجاؤ گنہگارو بے خوف چلے آؤ
وہ شافِعِ محشر تو بُلوا کے غلاموں کو
چھیڑو نہ طبیبو تم بیمارِمدینہ کو
جتنے بھی مبلِّغ ہیں ہو خاص کرم اُن پر
دربار میں جب پہنچوں اے کاش! شہا اُس دم
اے کاش! کہ رو رو کر دم توڑ دوں قدموں میں
اللہ قِیامت تک جس کا نہ خُمار اُترے
اے کاش! تڑپ کر میں سرکار لگوں گرنے
بُلوا کے بقیع آقا حَسنَین کے صدقے میں
وہ اپنے غلاموں کو شفقت سے پلاتے ہیں
انساں کے بجائے میں اے کاش! مقدَّر سے
جب شاہِ مدینہ نے پردہ کیا دنیا سے
عطارؔ پہ اب ایسا اے کاش! کرم ہو جائے
— Unknown
