راہبرِ ہستی نے واضح کر دیا خط کھینچ کر
دہر کے افکار پر، اعمال پر، احوال پر
مرحبا چشمِ تصور، آفریں دیدار دوست
ابتداۓ جلوہ ہے اور دیکھنے کا دم نہیں
سخت عاصیؔ ہوں، بُرے اعمال کا دوزخ ہوں میں
— Unknown
راہبرِ ہستی نے واضح کر دیا خط کھینچ کر
دہر کے افکار پر، اعمال پر، احوال پر
مرحبا چشمِ تصور، آفریں دیدار دوست
ابتداۓ جلوہ ہے اور دیکھنے کا دم نہیں
سخت عاصیؔ ہوں، بُرے اعمال کا دوزخ ہوں میں
— Unknown
خدا کے بعد صاحب زمانوں سب جہانوں کا
دھڑکتا ہے دل بیدار و بینا جس کے سینے میں
زباں ہر دل کی سمجھے وہ زباں دانِ ہمہ عالم
دریں چہ شک کہ پیشِ آہنگ ہے وہ رہتی دنیا تک
بنایا جس نے آسمانوں کو افراد ایک ہی گھر کے
کرے خونِ جگر سے آبیادی کشتِ ویراں کی
دیا توحید کا پیغام اس نے بت پرستوں کو
کھینچیں بے ساختہ اس کی طرف درماندہ راندہ
— Abdul Aziz Khalid\
اپنی رحمت كے سمندر میں اُتَر جانے دے
اپنی رحمت كے سمندر میں اُتَر جانے دے
بوۓ دُنیا مجھے گمراہ نا کر جانے دے
موت پر میری شہیدوں کو بھی رشک آئیگا
خواہشیں زاد بہت ساتھ دیا ہے میرا
روک رضوان نا مظفر کو درے جنت پر
— Muzaffar Warsi\
مِٹا میرے رنج و اَلَم یاالٰہی
شرابِ محبت کچھ ایسی پِلا دے
مجھے اپنا عاشِق بنا کر بنا دے
فَقَط تیرا طالِب ہوں ہرگز نہیں ہوں
نہ دے تاجِ شاہی نہ دے بادشاہی
جو عشقِ محمد میں آنسو بہائے
شَرَف حج کا دیدے چلے قافِلہ پھر
دکھا دے مدینے کی گلیاں دکھا دے
چلے جان اِس شان سے کاش یہ سر
مِرا سبز گنبد کے سائے میں نکلے
عبادت میں لگتا نہیں دل ہمارا
مجھے دیدے ایمان پر اِستقامت
مِرے سر پہ عِصیاں کا بار آہ مولٰی
حُقُوقُ العِباد! آہ! ہوگا مِرا کیا!
بڑی کوششیں کی گنہ چھوڑنے کی
مجھے سچّی توبہ کی توفیق دیدے
جو ناراض تُو ہوگیا تو کہیں کا
مجھے نارِ دوزخ سے ڈر لگ رہا ہے
سدا کیلئے ہوجا راضی خدایا
خدایا بُرے خاتِمے سے بچانا
گناہوں سے بھر پور نامہ ہے میرا
تُلیں میرے اعمال میزاں پہ جس دم
میں تھا لائقِ نارِ دوزخ خدایا
بروزِ قیامت ہو ایسی عنایت
جَلا دے نہ نارِ جہنم کرم ہو
گناہوں کی عادت بڑھی جا رہی ہے
گناہوں کی تاریکیاں چھا گئی ہیں
چلے قبر میں سب اکیلا لِٹا کر
نکیرین بھی قبر میں آچکے ہیں
قِیامت کی گرمی میں کیسے سہوں گا
یہود و نصاریٰ کو مغلوب کردے
مجھے دونوں عالم کی خوشیاں عطا ہوں
جو بیمار آئے شِفا پاکے جائے
میں تحریر سے دِیں کا ڈنکا بجادوں
تُو عطّارؔ کو بے سبب بخش مولیٰ
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
قبول بندۂ دَر کا سلام کرلینا
مرے گناہوں کے دفتر کھلیں جو پیشِ خدا
جو چاہتے ہو کہ ہو سرد آتشِ دوزخ
مِلا ہے خوب ہی نسخہ گناہگاروں کو
تمہارے حسن میں رکھ کر کشش کہا حق نے
یہ ہے حضور کا ہی مرتبہ شبِ معراج
حبیب عرش سے بھی پار جا کے رب سے ملے
خدا نے کہ دیا محبوب سے کہ محشر میں
ہے َنزْع و قبر و قیامت کا خوف اگر تم کو
مدینے جاتے ہیں زائر تو اُن سے کہتا ہوں
جمیلِؔ قادری اُٹھو جو عزمِ طیبہ ہے
— Jamil Ur Rehman Qadri\
مجھے بخش دے بے سبب یا الٰہی
گناہوں نے ہائے! کہیں کا نہ چھوڑا
پئے شاہِ بطحا مِری چھوٹ جائیں
بڑا حج پہ آنے کو جی چاہتا ہے
میں مکّے میں آؤں مدینے میں آؤں
میں دیکھوں مدینے کا گلشن دکھا دے
کرم ایسا کر دے مدینے میں آ کر
دکھا دے بہارِ مدینہ دکھا دے
سلیقہ شِعاری کا میں ہوں بھکاری
ملے بیقراری کروں آہ وزاری
کروں عالموں کی کبھی بھی نہ توہین
حُسین ابنِ حیدر کے صدقے میں مولٰی
زمانے کی فکروں سے آزاد کر دے
جو مانگا وہ دے مجھ کو وہ بھی عطا کر
مسلماں مسلمان کے خوں کا پیاسا
سبھی ایک ہو جائیں ایمان والے
کبھی تو مجھے خواب میں میرے مولٰی
خدایا بُرے خاتمے سے بچا لے
نظر میں محمد کے جلوے بسے ہوں
پسِ مَرگ ہو روزِ روشن کی مانَند
گناہوں سے عطّارؔ کو دے مُعافی
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
تو شاہِ خوباں، تو جانِ جاناں، ہے چہرہ اُم الکتاب تیرا
تو سب سے اول، تو سب سے آخر، ملا ہے حسنِ دوام تجھ کو
خدا کی غیرت نے ڈال رکھے ہیں تجھ پہ ستر ہزار پردے
ہو مشک و امبر، یابوئے جنت، نظر میں اس کی ہے بے حقیقت
میں تیرے حُسن وبیاں کے صدقے، میں تیری میٹھی زبان کے صدقے
ہے تو بھی صائم عجیب انساں کہ خوف محشر سے ہے ہراساں
— Saim Chishti\
مرسلوں میں کوئی بھی خیرالبشرؐ ایسا نہ تھا
نام جب سرکارؐ کا جپتا نہ تھا ہر صبح میں
لامکاں کی حد سے آگے ختم ہوتا ہے سفر
جا نہ سکتا جو تلاشِ رزق میں طیبہ تلک
داغ انگلی کے اشارے کا ہے سینے پر عیاں
— Aziz Ludhianvi\
غیر ممکن ہے ثنائے مصطفیٰ
دِل میں دے یارب وِلائے مصطفیٰ
تیرے پیارے کا میں دیوانہ بنوں
مصطفیٰ ہیں ساری خلقت کے لیے
ڈھونڈتے ہیں سب رضا اللہ کی
کیا نسیمِ خلد خوش آئے اسے
رِزق کیا ہر چیز کے قاسم ہیں وہ
رہ گئے سدرہ پہ جبریلِ امیں
دشتِ طیبہ میں بہارِ خلد ہے
منتظر ہیں جنتیں اُس کے لیے
میری اُمت میری اُمت بخش دے
روزِ محشر اُن کے بندوں کے لیے
حکم حق ہوگا کہ جائے سب سے قبل
پل سے گزریں ان کے بندے بے خطر
یوں پکارے گا مُنادی حشر میں
اپنی اُمت کو ُچھڑانے کے لیے
جاں کنی کے وقت اَزراہِ کرم
پوچھتے کیا ہو فرشتو قبر میں
قبر و محشر کا یہی ہے اِک جواب
مہرِ محشر مجھ پہ ہوجائے گا سرد
کیوں ڈرائے گی مجھے نارِ جحیم
دو قدم میں ہوگی طے راہِ صراط
زُہد و طاعت کچھ نہیں ہے میرے پاس
روزِ محشر دھوپ میں ہوں گے عدو
چاہتا ہوں دل سے احمد کی رضا
ہے تمنائے جمیلِؔ قادری
— Jamil Ur Rehman Qadri\
میں مکّے میں پھر آگیا یاالٰہی
نہ کر رَد کوئی اِلتجا یاالٰہی
رہے ذِکر آٹھوں پَہَر میرے لب پر
مِری زندگی بس تری بندگی میں
نہ ہوں اَشک برباد دنیا کے غم میں
عطا کردے اِخلاص کی مجھ کو نعمت
مجھے اولیا کی مَحبَّت عطا کر
میں یادِ نبی میں رہوں گم ہمیشہ
مِرے بال بچوں پہ سارے قبیلے
دے عطّاریوں بلکہ سب سُنّیوں کو
خدایا اجل آکے سر پر کھڑی ہے
مری لاش سے سانپ بچّھو نہ لپٹیں
تو عطارؔ کو سبز گنبد کے سائے میں
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\