حج کا شَرَف ہو پھر عطا یاربِّ مصطَفٰے
مل جائے اب رہائی فراقِ مدینہ سے
دیدے طوافِ خانۂ کعبہ کا پھر شَرَف
رُخ سُوئے کعبہ ہاتھ میں زم زم کا جام ہو
پھر قافلہ الٰہی بنے ’’ چل مدینہ‘‘ کا
سب اہلِ خانہ ساتھ میں ہوں کاش!چل پڑے
ہوں ساتھ میں نواسیاں اور ان کے والِدین
ہوں ساتھ پوتے پوتیاں اور ان کے والِدین
دِیوانے مصطَفٰے کے مِرے ساتھ ساتھ ہوں
روتی رہے جو ہر گھڑی عشقِ رسول میں
اے کاش!مجھ کو خواب میں ہو جائے ایک بار
ہوں خَتْم میرے مُلک سے تخریب کاریاں
دنیا کے جھگڑے خَتْم ہوں اور مشکِلیں ٹلیں
گو جاں کو خطرہ ہے مِری اِمداد پر ہے تُو
اِس طرح پھیلے نیکی کی دعوت کہ نیک ہو
بے پردَگی کا خاتِمہ ہو عورَتوں کو دے
ہر ماہ مَدنی قافلے میں سب کریں سفر
احکامِ شَرْع پر مجھے دے دے عمل کا شوق
قفلِ مدینہ لب پہ ہو اور یہ شَرَف ملے
ہو جائیں مولا مسجدیں آباد سب کی سب
غیبت سے اور تُہمت و چغلی سے دُور رکھ
عُجب و تکبُّر اور بچا حُبِّ جاہ سے
اَمراضِ عِصیاں نے مجھے کرنیم جاں دیا
جوں ہی گناہ کرنے لگوں ، تیرے خوف سے
تیری خَشیّت اور ترے ڈر سے، خوف سے
دے نَزْع و قبر وحشر میں ہر جا اَمان، اور
آنکھوں میں جلوہ شاہ کا اور لب پہ نعت ہو
اے کاش! زیرِ گنبدِ خضرا پئے ضیا
مجھ کو بقیعِ پاک میں مدفن نصیب ہو
جس دم وہ آئیں قبر میں ، میری زَبان پر
مَحْشر میں پُلْ صراط پہ میرے قدم کہیں
فردوس میں پڑوس دے اپنے حبیب کا
تو بے حساب بخش دے عطاّرِؔ زار کو
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\