اگر قسمت سے میں ان کی گلی میں خاک ہو جاتا
جو اے گل جامۂ ہستی تری پوشاک ہو جاتا
جو وہ اَبر کرم پھر آبروئے خاک ہو جاتا
ہوائے دامنِ رنگیں جو ویرانہ میں آ جاتی
لب جاں بخش کی قربت حیاتِ جاوِداں دیتی
ہوا دل سوختوں کو چاہیے تھی اُن کے دامن کی
اگر دو بوند پانی چشمۂ رحمت سے مل جاتا
اگر پیوند ملبوسِ پیمبر کے نظر آتے
جو وہ گل سونگھ لیتا پھول مرجھایا ہوا بلبل
چمک جاتا مقدر جب دُرِ دَنداں کی طلعت سے
عدو کی آنکھ بھی محشر میں حسرت سے نہ منھ تکتی
بہارِ تازہ رہتیں کیوں خزاں میں دَھجیاں اُڑتیں
کماندارِ نبوت قادر اندازی میں یکتا ہیں
نہ ہوتی شاق اگر دَر کی جدائی تیرے ذَرَّہ کو
تری رحمت کے قبضہ میں ہے پیارے قلب ماہیت
خدا تارِ رَگِ جاں کی اگر عزت بڑھا دیتا
تجلی گاہِ جاناں تک اُجالے سے پہنچ جاتے
اگر تیری بھرن اے اَبر رحمت کچھ کرم کرتی
حسنؔ اہل نظر عزت سے آنکھوں میں جگہ دیتے
— Hassan Raza Khan Barelvi\
