یہ دن رات آنکھیں جی نم کس لیے ہیں
یہ پوچھا کہ سجدہ ہے کس جا پہ کرنا
جبریل چومو آج اُن کی تلیاں
گناہ گار بولے ہے کون اب ہمارا
اگر ان کو آنا ہے مدفن میں حاکم
— Unknown
یہ دن رات آنکھیں جی نم کس لیے ہیں
یہ پوچھا کہ سجدہ ہے کس جا پہ کرنا
جبریل چومو آج اُن کی تلیاں
گناہ گار بولے ہے کون اب ہمارا
اگر ان کو آنا ہے مدفن میں حاکم
— Unknown
جس کی دربارِ محمد میں رسائی ہوگی
سانس لیتا ہوں تو آتی ہے مہک طیبہ کی
روزِ محشر نہ کوئی اور سہارا ہوگا
چاند قدموں پہ گرِا ان کا اشارا جو ہوا
دل تڑپ جائے گا اے زائرِ بطحا تیرا
تجھ سے پوچھا نہ نکیروں نے ظہوری کچھ بھی
— Muhammad Ali Zahoori\
میرے باپا جیا نہ ہور
میرے باپا جیا نہ ہور
نوری عمامہ نوری داڑھی
میرے باپا جیا نہ ہور
توبہ کیتی ہویا عطاری
میرے باپا جیا نہ ہور
زلفاں داڑی عمامے سجاۓ
میرے باپا جیا نہ ہور
مرشد ایسا عِطر لگا دو
میرے باپا جیا نہ ہور
مٹھے مرشد دید کرا دو
— Unknown
راہیا مدینے دیا لے جا پیغام میرا
آکھیں حضور تائیں اللہ دے نور تائیں
سَد لو دوارے اُتے روضے پیارے اُتے
خوشیاں فیر خوب مناواں سو سو میں شکر بجاواں
پھر تے ہو جاون عیداں سبھے بھر آؤن امیداں
دساں کی تینوں راہیا کی تو پچھنا ایں ماہیا
— Unknown
کب کہتا ہوں نایاب نگینہ مجھے دے دو
خوشبو سے مہکتا رہے گلشن مرے دل کا
کیا مانگوں شہا آپ سے کس طرح میں مانگوں
جینا بھی مدینے کا مدینے کا ہے مرنا
بے شک نہ ملیں مجھ کو جہاں بھر کے خزانے
جس سینے میں آباد ہو آقا کا مدینہ
اوروں سے غرض ہےنہ نیازیؔ مجھے ہوگی
— Unknown
سایۂ زلفِ گرہ گیر کرو
دل کے ویرانے کو روشن کر دو
کب تلک مجھ سے حجاباتِ جمال
رخ سے اک بار اُٹھا دو پردہ
— Qazi Arfi\
کیا لطف ہے سخن کا اگر چشم تر نہ ہو
ہو اس طرح سے اپنی مدینے میں حاضری
جھکتا ہے میرادل بھی مرےسرکے ساتھ ساتھ
آسودگی نصیب نہ ہو جانِ زار کو
جس شب رخ حبیب کا جلوہ نصیب ہو
بے کیف زندگی ہے ظہوری تمام اگر
— Muhammad Ali Zahoori\
یا اللہ یا رحمٰن
واسطہ نبیوں کے سرور کا
مولیٰ ! مجھ کو نیک بنا دے
نارِ جہنم سے تو اماں دے
واسطہ شاہ جود و سخا کا
بہرِکوثر و بئرِ زم زم
حاضر در ہوں میں دکھیارا
بخش دے میری ساری خطائیں
جتنے بھائی آۓ ہوۓ ہیں
نیکی کی دعوت عام ہو جاۓ
— Unknown
اُن کی یاد میں رہتا ہوں اور مجھے کچھ کام نہیں
اُنکی یاد کا احساس ہے فکرِ صبح و شام نہیں
ہم نے تو دیکھی ہی نہیں صورت ہی ناکامی کی
جتنا جس کا ظرف طلب ویسا اس کا پیمانہ
ہو سُو جا کےدیکھ لیا بربادی مایوسی ہے
یہاں تک محدود نہیں ہےان کا جلوہ اے واعظ
جس کو ان کا درد ملا ساری کائنات ملی
میرے تڑپنے کی خالدؔ اُن کو خبر ہو جاتی ہے
— Khalid Mehmood Khalid\
دیکھو جشن ولادت آیا کہ دھوم مچی سبحان اللہ
مکے میں شورہوا یہ آۓ حضور آۓ
حسرت ہے سب کو جائیں آمنہ بی بی کے گھر
بھیجو درود ان پر اللہ یہ فرماۓ
سوکھے شجر نے پایا اُن کے کرم کا سایا
اُن کے دیوانے سارے جشنِ میلاد منائیں
— Unknown