قیامت ہے اب انتظار مدینہ
مری روح آئینہ دارِ مدینہ
اِسی آرزو میں مٹا جا رہاہوں
شفاعت مسلم، جو مل جاۓ مجھ کو
ستم کا نشانہ مری زندگی ہے
معطر ہوئی جاں، کھلا غنچۃ دل
یہ دوری نہیں، حد پاس ادب ہے
پیا تھا بس اک جام اس میکدے سے
تصور میں ہے آمد و رفت شاہ کی
اُسے مل گئی دین و دنیا کی دولت
لگا لوں گا آنکھ سرمہ سمجھ کر
اُبھرنے کوہیں سبز گنبد کے جلوے
نصیر اپنی کوشش نہیں کام آتی
— Peer Naseer Ud Din Naseer\
