کتنی پرنور حسیں ہے بخدا آج کی رات
راز کی باتوں کے لائق نہ تھی قاصد کی زباں
جب انہیں سدرہ سے جاتے ہوۓ تنہا پایا
پھول خورشید' صبا' چاند ستارے شبنم
چال بادل نے سکوں بحر نے خوشبو گل نے
جب سرِ بزم کبھی نعت سنائی نازش
— Hanif Nazish\
کتنی پرنور حسیں ہے بخدا آج کی رات
راز کی باتوں کے لائق نہ تھی قاصد کی زباں
جب انہیں سدرہ سے جاتے ہوۓ تنہا پایا
پھول خورشید' صبا' چاند ستارے شبنم
چال بادل نے سکوں بحر نے خوشبو گل نے
جب سرِ بزم کبھی نعت سنائی نازش
— Hanif Nazish\
کبھی اس شخص کے عیبوں کا چرچا ہونہیں سکتا
کرم جن کاہے شیوہ اور عادت درگزرجن کی
حسین و مہ جبین و نازنیں تویوں بہت سے ہیں
مدینے میں پہنچ کر کوئی سائل نامراد آۓ
غلام مصطفیٰ کی ٹھوکروں میں ہےشہنشاہی
علیم ان کا کرم بڑھ کرجسےآغوش میں لےلے
— Unknown
میری مراد آپ کی جب ذات ہوگئی
وہ جو نہ تھے خود سے کوئی آشنا نہ تھا
نکلی جو بات میرے نبی کی زبان سے
شاہوں کو رشک آیا ہےاس کے نصیب پر
اتنا بلند حق نے کیا ان کے ذکر کو
سوچا تھا اُن کو جا کےسنائیں گے دردِ دل
خالدؔ مرے حضور جہاں مسکرا دیۓ
— Khalid Mehmood Khalid\
بن کے نور خدا مصطفیٰ آ گۓ
اجڑی دنیا تھی آقا نے آباد کی
جن کی خبریں نبی سارے دیتے گۓ
ہو گۓ نور دنیا کے ظلمت کدے
عرش پر جشن جن کا منایا گیا
مشرکوں بت پرستوں کےدن پھرگۓ
اب نہ مایوس ہو گا سوالی کوئی
— Unknown
تاجدارِ حرم اے شہنشاہِ دیں
دور رہ کر نہ دم ٹوٹ جائے کہیں
کوئی حسنِ عمل پاس میرے نہیں
دونوں عالم میں کوئی بھی تم سا نہیں
فکر امت میں راتوں کو روتے رہے
پھول رحمت کے ہر دم لٹاتے رہے
کافروں کے ستم ہنس کے سہتے رہے
موت کے وقت کر دو نگاہِ کرم
اب مدینے میں سب کو بلا لیجئے
عشق سے تیرے معمور سینہ رہے
دور ہو جائیں دنیا کے رنج و الم
پھر بلا لو مدینے میں عطاؔر کو
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
گرطلب سے بھی کچھ مسوا چاہۓ
دل کو دید رخ مصطفیٰ ﷺ چاہۓ
ہاتھ میں دامن مصطفیٰ ﷺ آ گیا
لے چلو اب مدینے کو چارہ گرو
تم ملے، دونوں عالم کی دولت ملی
نعمتیں دونون عالم کی دے کر مجھے
سامنے سرور دو جہاں ﷺ آ گۓ
— Bismil Aghai\
اپنے دامانِ شفاعت میں چھپاۓ رکھنا
ان کے ہو جاؤ ہراک چیز انہیں سے مانگو
جب سوا نیزے پہ خورشیدِ قیامت آۓ
اسی منصب کا طلب گار ہوں میں بھی آقا
اور مجھ کو نہ کسی غم میں رلانا یا رب
میں وہ منگتا ہوں سدا خار ملے جس کو
خود کو ڈھونڈیں نہ خیر خود کو ہماری آۓ
آپ کی یاد نے آباد کیا ہے مجھ کو
آنکھ اٹھاؤں تو نظر آپ کا روضہ آۓ
میں نے مانا کہ نکما ہوں مگر آپ کا ہوں
ذرۃ خاک کو خورشید بنانے والے
شاید اس راہ سے خالدؔ مرے آقا گزریں
— Khalid Mehmood Khalid\
بزمِ تصورات سجی تھی ابھی ابھی
معلوم کر رہے تھےفرشتوں سے جبرائیل
عرشِ بریں کو اسکی بلندی پہ رشک ہے
لو آگیا ہےوہ گنبدِ حضریٰ بھی سامنے
قدرت نے پھول اس پہ کرم کے لٹا دیۓ
لو ہو گیا کرم وہ محفل میں آگۓ
وہ مجھ کو بخشوائیں گے محشر کےدن ریاضؔ
— Unknown
صبا درِ مصطفیٰ تے جاکے کہویں درود و سلام میرا
توں لے کے بوسا او جالیاں دا ،او جالیاں کرماں والیاں دا
تو سامنے روضے دے کھلو کے میری طرح زار زار رو کے
لیا مدینے دا سب نے رستہ میں ایتھے ہی رہ گیا ترسدا
ہوائے اتنا سوال میرا مدینے ہووے جے گزر تیرا
— Unknown
جس کو ان کے کرم نے پالا ہے
دستِ قدرت نے آپ ڈھالا ہے
قرب مانگے رسول اکرم کا
بھیک پاتے ہیں جو مدینے سے
جرم عصیاں مرے چھپاۓ گا
حق نظر آیا میرے آقا نے
آپ کے در سے کون خالی گیا
وہ سمجھتا ہے آپ کیا کیا ہیں
اُن کا جلوہ تو ہر جگہ ہےمگر
کیوں نہ روشن ضمیر ہوں ہم بھی
مصطفیٰ کے کرم نے اے خالدؔ
— Khalid Mehmood Khalid\