لب پہ جاری نبی کی ثنا چاہیے
میرےسرکوحرم کی فضا چاہیے
آپ آئیں نہ آئیں یہ ان کی رضا
ہوش کو بھی کوئی ہوش باقی نہیں
چپ کھڑامیں رہوں اور وہ کہتےرہیں
وقتِ آخر ظہوری مہک جائیں گے
— Unknown
لب پہ جاری نبی کی ثنا چاہیے
میرےسرکوحرم کی فضا چاہیے
آپ آئیں نہ آئیں یہ ان کی رضا
ہوش کو بھی کوئی ہوش باقی نہیں
چپ کھڑامیں رہوں اور وہ کہتےرہیں
وقتِ آخر ظہوری مہک جائیں گے
— Unknown
نبی کی نعت کی محفل سجانا ہم نہ چھوڑیں گے
کہو تو چھوڑ دیں گے ہم جہاں کی محفلیں ساری
پکارا جب بھی مشکل میں چلے آۓ میرے آقا ﷺ
نبی کی نعت پڑھنا حضرتِ حساں کی سنت ہے
جب اپنا ایک مرکزہے تو پھر یہ نفرتیں کیسی
ملی ہےاسمِ اعظم کی بھی دولت غوث کا صدقہ
کہو یہ جلنے والوں سے مروگے تم یونہی جل کر
کریں گے ذکرسےآباد دلوں کی بستیاں علویؔ
— Unknown
چھڑا دیتی ہے فکرِ غیر سے تاثیرِ میخانہ
پڑھو بادَہ گسارَو ان نمازِ خود فراموشی
کھڑا ہے جھومتا کوئی پڑا ہے لوٹتا کوئی
نہ دے مینا، نہ دے ساغر، مجھے اس کی نہیں حاجت
گنہ گاروں میں مئے عشقِ حق تقسیم ہوتی ہے
— Shaykh Ul Islam Dr Muhammad Tahir Ul Qadri\
خیال میں بھی جب رسولِ ذی حَشَم کا نام پڑھ
جو مدحتِ نیاز ہے، جو عشق کی نماز ہے
یہ ربطِ لایزال ہے، یہ جان ہے، یہ آل ہے
ثنا ہی رخت و زاد ہے، نہاد ہے، مراد ہے
کریم سُن رہے ہیں تیری نعت کو، سلام کو
وہ نام ہی حیات ہے، وسیلۂ نجات ہے
— Maqsood Ali Shah\
فلک کے نظارو، زمیں کی بہارو،
انوکھا نرالا وہ ذیشان آیا
ہوا چار سُو رحمتوں کا بسیرا
ہواؤں میں جذبات ہیں مرحبا کے،
سماں ہے ثنائے حبیبِ خدا کا
کہاں میں ظہوؔری کہاں ان کی باتیں
— Muhammad Ali Zahoori\
لے چل کدی خدایا سرکار دے بوہے تے
اکھیاں دے نال چل کے جتھےجاندا اے زمانہ
کعبے چوں ہوکے جاؤ سرکار دے دوارے
کھلدے نیں روز جتھےرحمت دےپھل سجرے
میرےدل تےہےجوبیتی توں ای حبیب جانے
ایہو آرزو ہےآقا اوہ دن وی کاش آوے
— Nasir Hussain Chishti\
یہ فضا جو خوشبو دار ہوئی تھی ابھی ابھی
سب گنگنا رہے تھے نوری ملائکہ
جب خواب آیا رات کو طیبہ شہر میں تھا
پوچھی ملائکہ سے روح الامیں یہ بات
نغمے سلام کے جو پڑھے تھے حضور پر
جو اونگھ آئی محفل میں ثاقبؔ کو جس گھڑی
— Unknown
دل جھوم اٹھا اور چلنے لگی رحمت کی ہوا سبحان اللہ
نادار کی بخشش کا ساماں ہر غم کی دوا دکھ کا درماں
اپنوں کے لیےبھی رحمت کل غیروں کےلیےبھی ہادیء سبل
جب کثرتِ غم سے گھبرا کر ہم سوۓ مدینہ تکتے ہیں
ہم جیسے نکموں پرانکی ہے کتنی عنایت روز افزوں
یہ اوج وشرف افلاک ہدف حیران ہیں سب اسلاف وخلف
سرکار کےدرپراے خالدؔ تکرارِ دعا کا ذکر ہی کیا
— Khalid Mehmood Khalid\
لب کھولتے ہیں مدحتِ سرکار کے لۓ
ارض و سما میں جو بھی خدا نےبنا دیا
وہ شہر بےمثال مدینہ کہیں جسے
مدت سے منتظر ہے مری چشم اشکبار
آنکھوں میں اشک آہ لبوں پردلوں میں سوز
نسبت ظہوری گنبد خضریٰ سے ہو گئی
— Muhammad Ali Zahoori\
آپ آۓ جب مدینے وہ نورانی بن گیا
اللہ کا قرآن سارا مصطفیٰ پر اترا جو
انگلیوں سے مصطفیٰ کی پانی جو جاری ہوا
نور اُن کو جو نہ مانے جو کرے گستاخیاں
اپنے خوں سے دین یارو آل نے زندہ کیا
حاجرہ جس جا پہ دوڑیں وہ پہاڑوں کی جگہ
جب سے ثاقبؔ نعت کے میداں میں آیا دوستو
— Unknown