بے خود کئے دیتے ہیں انداز حجابانہ
جی چاہے ہے تحفے میں دے دوں میں تجھے آنکھیں
سنگ در جاناں پر کرتا ہوں جبیں ساعی
اتنا تو کرم کرنا اےچشمِ کریمانہ
میں ہوش و حواس اپنے اس بات پہ کھو بیٹھا
پینے کو تو پی لوں گا پر عرض ذرا سی ہے
کیوں آنکھ ملائی تھی کیوں بات بڑھائی تھی
بیدؔم میری قسمت میں سجدے ہیں اسی درکے
— Bedam Shah Warsi\
