شانِ حضور فکرِ بشر میں نہ آسکے
تفصیل کیا بیان ہو ان کے عروج کی
والفجر ان کے چہرے کو قرآن نے کہا
دیکھے جو ایک بار مدینے کی رونقیں
کو ہوسکا نہ ذکر محمدﷺ سےآشنا
جس پر ظہوریؔ ان کی نگاہِ کرم رہے
— Muhammad Ali Zahoori\
شانِ حضور فکرِ بشر میں نہ آسکے
تفصیل کیا بیان ہو ان کے عروج کی
والفجر ان کے چہرے کو قرآن نے کہا
دیکھے جو ایک بار مدینے کی رونقیں
کو ہوسکا نہ ذکر محمدﷺ سےآشنا
جس پر ظہوریؔ ان کی نگاہِ کرم رہے
— Muhammad Ali Zahoori\
ہے تیری عنایات کا ڈیرا میرے گھر میں
جاگا تیری نسبت سے یہ تاریک مقدر
مدحت نے تیری مجھ کو یہ اعزاز دیا ہے
دروازے پہ لکھا ہے تیرا اسم گرامی
سیرت نے تیری جینے کا انداز سکھایا
انداز در و بام کے کچھ اور ہی ہوں گے
خالؔد یہ کرم نعتِ محمد کا ہے مجھ پر
— Khalid Mehmood Khalid\
ہے آج جشنِ صبح بہاراں حضور تشریف لارہے ہیں
نفس نفس رحمتیں ہیں رب کی نظر نظر نور ہےنمایاں
طلوع ہے اک ماہتاب ایسا ہر ایک ذرہ ہےنور جیسا
خدا نے جن کی خوشی میں اپنا تمام عرش علی سجایا
زبور میں جن کا ذکر آیا خلیل نے جن کی آرزو کی
وہ کہکشاں ہو کہ یا قمر ہوملائکہ ہوں کہ یا بشر ہوں
ہماری قسمت کہاں ہے ایسی جو ہم بھی سوۓ مدینہ جائیں
— Unknown
تاجدارِ مدینہ کے جلوے جن کے دل میں سماۓ ہوۓ ہیں
جن کو ان کی توجہ نے پالا ان کی رحمت نے جن کو نوازا
میرے آقا کی جن پہ نظر ہے دونوں عالم کی اُن کو خبر ہے
آلِ اطہار کا صدقہ عطا ہومفلسی کا ہماری بھلا ہو
تیس پاروں میں جو لکھا ہے سر بسر سیرتِ مصطفیٰ ہے
میری اوقات کچھ بھی نہیں ہے خود مری ذات کچھ بھی نہیں ہے
مسکراتے ہیں ان کی گلی میں چین پاتے ہیں ان کی گلی میں
آرزوۓ کرم دل میں لےکر خالدؔ ان کے سخی آستاں پر
— Khalid Mehmood Khalid\
لاکھ اوڑھے بشریت کا لبادہ کوئی
سیرت انسان کی بن جاۓ صحیفہ کوئی
آج تک کر نہ سکی فیصلہ دنیا کوئی
''کل یوم ھو فی شان'' سراپا تم ہو
شان سرکار ﷺ ہے ہر رخ سے مکمل اتنی
سیرت پاک کا اب تک بھی احاطہ نہ ہوا
— Khawaja Shouq\
حلیمہ میں تیرے مقدراں توں صدقے
نی سوھنے دا مکھڑا نورانی نورانی
انگلی نپا کے توں ویہڑے دے اندر
نی عرشاں دا چن ہے کھلونا وی جسدا
کدی نال تیرے نزاکت تھیں تھیں سوھنا
نوھوا کے سجا کے تے کجلا وی پا کے
— Unknown
لے کے پہلو میں غم امت نادار آۓ
کھل گۓ محفل کونین پہ کونین کے راز
سن کے سرکار مدینہ کی ولادت کی خبر
فرش والوں کے مقدر کا ستارا چمکا
پھرکسےمانگنےکاہوش رہے اے اعظم
— Muhammad Azam Chishti\
ہم جو کرتے ہیں ارادہ تیرا
ہے فقط تیری تمنا مالک
ہیں چلے تیری اِرادت لے کر
دل میں تاباں ہے محبت تیری
جیتے ہیں تیری رضا کی خاطر
ہم فقط مانگے ہیں تجھ کو تجھ سے
ہے بھروسہ جو ہمیں تو تجھ پر
ہم نے منہ موڑ لیا دنیا سے
ہم تو ہیں اپنے کیے پر نادم
چاہتے ہیں تری قربت مولا
— Sobia Fani\
حضور ایسا کوئی انتظام ہو جائے
میں صرف دیکھ لوں اک بار صبح طیبہ کو
تجلیات سے بھر لوں میں اپنا کاسۂ جاں
حضور آپ جو سن لیں تو بات بن جائے
حضور آپ جو چاہیں تو کچھ نہیں مشکل
ملے مجھے بھی زبانِ بوصیری و جامی
مزا تو جب ہے فرشتے یہ میں کہہ دیں
— Sabeeh Rehmani\
سجا کر اپنی پلکوں پر ستارے
یہ مانا بےعمل ہوں پر خطا ہوں
مرے ساقی کرم کی اک نظر ہو
تمہارا در تو ہے دربارِ عالی
کرم کر دو شہنشاہ مدینہ
مرے دل کی طرف کب دیکھتے ہیں
اندھیروں میں زمانے کے گھرا ہوں
تمہاری یاد سے آباد ہے دل
وہیں اب مرنا جینا چاہتا ہوں
— Khalid Mehmood Khalid\