جتنی دیر آنکھ غمِ شاہ میں تر رہتی ہے
چشم مازاغ عجب نور کا گھر رہتی ہے
خواب میں بھی جھلک ان کی جو نظر اجاۓ
ہٹ کے آقا ﷺ سے تصور نہ کرو رحمت کا
کالی کملی کا ذرا ڈال دوسایہ مولیٰ
دلوہ کس کام کا جس میں غم سرکارﷺنہ ہو
— Khawaja Shouq\
جتنی دیر آنکھ غمِ شاہ میں تر رہتی ہے
چشم مازاغ عجب نور کا گھر رہتی ہے
خواب میں بھی جھلک ان کی جو نظر اجاۓ
ہٹ کے آقا ﷺ سے تصور نہ کرو رحمت کا
کالی کملی کا ذرا ڈال دوسایہ مولیٰ
دلوہ کس کام کا جس میں غم سرکارﷺنہ ہو
— Khawaja Shouq\
ہرنظرکانپ اٹھےگی محشر کے دن خوف سےہرکلیجہ دہل جاۓ گا
عالمِ نفسی نفسی میں اے ہمنوا دیکھنا ایسے میں عظمتِ مصطفیٰ
سرورِ انبیاء مونسِ بے کساں شاہِ کون و مکاں ہادیءانس و جہاں
میرا کیا کرسکے گی بھنور میں بلانازہے آپ پر یاحبیبِ خدا
اپنی چوکھٹ پہ سرکاربلوایۓ کچھ تو بیکلؔ کے بارے میں فرمایۓ
— Unknown
گناہوں کی نہیں جاتی ہے عادت یارسول اللہﷺ
گناہوں سے مجھے ہوجاۓ نفرت یارسول اللہ ﷺ
گناہ لمحہ چاہتا ہوں ہاۓ! اب بڑھتے ہی جاتے ہیں
میں بچنا چاہتا ہوں ہاۓ! پھر بھی بچ نہیں پاتا
مرا یہ خواب ہوجاۓ شہا ﷺ شرمندۃ تعبیر
مرے دل سے ہوس دنیا کی دولت کی نکل جاۓ
مرے آنسو نہ ہوں برباد دنیا کی محبت میں
پھنسا جاتا ہے دنیا کی محبت میں سگِ عطارؔ
— Abdul Sattar Khan Niazi\
نگاہ مصطفیٰ کی جدھر ہو رہی ہے
وہ خاطر میں لاتے نہیں بادشاہی
تصور میں لمحات لا کر تو دیکھو
ثنا خوانیِ مصطفیٰ کی کی بدولت
تڑپتے ہوئے جو سکوں مل رہا ہے
ہے رشک ملائک جو آقا کے در پر
میں ہر شب تری راہ تکتا ہوں آقا
عجب درد ہے یہ جدائی کا افضؔل
— Afzal Noshahi\
جب بھی آتا ہے خیالِ شہِ طیبہ دل میں
اس نزاکت سے دل و جاں میں ہیں جلوےان کے
روشن دل کی فقط جلوۃ مِن نُور سے ہے
قبلئہ دیں بھی وہی کعبئہ ایماں بھی وہی
اس قدر آپ میں کھوجاؤں کہ میں،میں نہ رہوں
ٹوٹتا کب ہےمدینے سے تعلق دل کا
جن کے کردارسے مہکا ہوی قران ہےشوق
— Khawaja Shouq\
مصطفیٰ کے دیوانے کب کسی سے ڈرتے ہیں
عقل کےجوبندےہیں خودہی ڈوب جاتے ہیں
آپ کے پسینے سے جن گلوں کو نسبت ہے
پتھروں سے اُٹھتی ہے گونج پھر سلاموں کی
فکرِ مصطفیٰ سے ہی ذکر مصطفیٰ سےہی
دل جلے حسینوں پر مرگۓ تو کیا ہوا
آپ کی محافل میں ناصرؔ آہی جاتے ہیں
— Syed Nasir Hussain Chishti\
قسمت مِری چمکایۓ چمکایۓ آقا ﷺ
سینے میں ہو کعبہ تو بسے دل میں مدینہ
بےتاب ہوں بےچین ہوں دیدار کی خاطر
ہرسمت سے آفات و بَلِیّات نے گھیرا
سُکرات کا عالم ہے شہا! دَم ہے لبوں پر
وحشت ہے اندھیرا ہےمری قبر کے اندر
مُجرِم کو لۓ جاتے ہیں اب سوۓ جہنم
عطارؔ پہ ہو بہر رضا اِتنی عنایت
— Muhammad Binyamin Shakir Attari\
پھر کرم ہو گیا میں مدینے چلا
کیف و مستی عطا مجھ کو کر دے خدا
اے شجر اے ہجر تم بھی شمس و قمر
مسکرانے لگی دل کی اک اک کلی
پھر اجازت ملی جب خبر یہ سنی
وہ اُحد کی زمیں جس کے اندر مکیں
جو ہیں محبوب رب اپنی ان سے ہی سب
ان کے مینار پر جب پڑے گی نظر
ہاتھ اٹھتے رہے، مجھ کو دیتے رہے
کیا کرے گا اِدھر، باندھ رختِ سفر
— Ubaid Raza\
جو گلے لگاۓ عدو کو بھی وہ رسول میرا رسول ہے
تو جو چاہے راضی ہو مصطفیٰ تو جو چاہےتجھ کو ملے
جہاں فرشیوں کے قدم لگے جہاں عرشیوں کے بھی سر جھکے
وہ جہاں جہاں سے گزرگۓوہاں پھول مہکے بہارکے
وہ نبی جو میراکرے میری بخششوں کی دعاکرے
اسے جھک کے چوما ہے عرش نے ہے لگی نبی کے یہ پاؤں
اسے کوئی ڈرہےنہ کوئی غم ہے نبی کا اس پہ سداکرم
یہی فیصلےہیں شعورکےسداگیت گاؤحضورکے
ہے تجھی سے عظمت سرمدی ہےتجھی سے حسن میں دلکشی
یہ نیازی جاۓ کہاں شہا کہ ہے نام لیوا یہ آپ کا
— Abdul Sattar Khan Niazi\
اللہ اللہ شہہ کونین جلالت تیری
جھولیاں کھول کےبےسمجھےنہیں دوڑآۓ
تیرے انداز یہ کہتےہیں کہ خالق کوترے
اُس نے حق دیکھ لیا جس نے ادھر دیکھ لیا
بزمِ محشر کونہ کیوں جاۓ بلاوا سب کو
مجمع حشر میں گھبرائی ہوئی پھرتی ہے
چین پائیں گے تڑپتے ہوۓ دل محشر میں
ہم نے مانا کہ گناہوں کی نہیں حد لیکن
— Unknown