وہ سوئے لالہ زار پھرتے ہیں
جو ترے در یار پھرتے ہیں
آہ کل عیش تو کئے ہم نے
ان کے ایما سے دونوں باگوں پر
ہر چراغ مزار پر قدسی
اس گلی کا گدا ہوں میں جس میں
جان ہیں جان کیا نظر آئے
پھول کیا دیکھوں میری آنکھوں میں
لاکھوں قدسی ہیں کام خدمت پر
ہائے غافل وہ کیا جگہ ہے جہاں
بائیں رستے نہ جا مسافر سن
جاگ سنسان بن ہے رات آئی
نفس یہ کوئی چال ہے ظالم
کوئی کیوں پوچھے تیری بات رضاؔ
— Ala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan Barelvi\
