پیغام صباء لائی ہے گلزار نبی ﷺ سے
ہر آہ گئی عرش پہ یہ آہ کی قسمت
شکر خدا کہ آج گھڑی اس سفر کی ہے
گرمی ہے تپ ہے درد ہے کلفت سفر کی ہے
پیغام صباء لائی ہے گلزار نبی ﷺ سے
ماہ مدینہ اپنی تجلی عطا کرے
اس کے طفیل حج بھی خدا نے کرادیۓ
ان پر درود جن کو ہجر کریں سلام
جن و بشر سلام کو حاضر ہیں السلام
شمس و قمر سلام کو حاضر ہیں السلام
عرض و اثر سلام کو حاضر ہیں السلام
خستہ جگر سلام کو حاضر ہیں السلام
بھاتی نہیں ہمدم مجھے جنت کی جوانی
یہ پیاری پیاری کیاری تیرے خانہ باغ کی
مومن ہوں مومنوں پہ رؤف رحیم ہو
جن جن مرادوں کے لۓ احباب نے کہا
بھینی صبح میں ٹھنڈک جگر کی ہے
ڈالیاں ہری ہری ہیں تو بالیں بھری بھری
ہم جانیں اور قدم سے لپٹ کر حرم کہے
کالک جبیں کی سجدہ در سے چھڑاؤگے
ہاں ہاں رہِ مدینہ ہے غافل ذرا رو جاگ
گھڑیاں گنی ہیں برسوں یہ شب گھڑی پھری
اللہ اکبر اپنے قدم اور یہ خاک پاک
محبوب رب عرش ہے اس سبز قبہ میں
چھاۓ ملائکہ ہیں لگاتار ہے درود
اے واۓ بیکسی تمنا کہ اب امید
کیوں تاجدارو خواب میں دیکھی کبھی یہ شے
عاصی بھی ہیں چہیتے یہ طیبہ ہے زاہدو
اتنا عجب بلندی جنت پہ کس لۓ
اف بےحیائیاں کہ یہ منہ اور تیرے حضور
جاؤں کہاں پکاروں کسے کس کا منہ تکوں
سرکار ہم گنواروں میں طرز ادب کہاں
مانگیں گے مانگے جائیں گے منی مانگی پائیں گے
جنت نہ دیں نہ دیں تری رویت ہو خیر سے
سنکی وہ دیکھ بادِ شفاعت کہ دیے ہو
— Unknown