طیبہ کی ہے یاد آئی اب اشک بہانے دو
میں تیری زیارت کے قابل تو نہیں مانا
جو چاہو سزا دینا محبوب ﷺ کے دربانو!
مشکل ہو اگر میرا طیبہ میں ابھی جانا
آقا ﷺ کیلۓ ایسے الفاظ کہاں صائمؔ
— Saim Chishti\
طیبہ کی ہے یاد آئی اب اشک بہانے دو
میں تیری زیارت کے قابل تو نہیں مانا
جو چاہو سزا دینا محبوب ﷺ کے دربانو!
مشکل ہو اگر میرا طیبہ میں ابھی جانا
آقا ﷺ کیلۓ ایسے الفاظ کہاں صائمؔ
— Saim Chishti\
میں کیسےعالم اشیا سے ماورا سمجھوں
جدا جدا ہے زمانےمیں ہربشرکا خمیر
جو شخص عظمت آدم سےبےخبر ہےابھی
رقم ہے وقت کےسینےپہ حرف حرف ترا
کرن کرن تری طلعت چمن چمن خوشبو
نہ پا سکوں، نہ کبھی چھوسکوں نہ دیکھ سکوں
— Unknown
ہر جا پہ رحمت ہے سرکار مدینہ کی
اللہ نے بنایا انہیں سلطان ہے نبیوں کا
سب نوری ملائک اور ہر وقت ہے اور اللہ
وہ رحمت پاۓ گا جنت میں جاۓ گا
اس ساری دنیا میں اور قبر ومحشر میں
وہ بندہ اے ثاقبؔ ہے پیارا اللہ کا
— Unknown
سرکار ﷺ جیا سوہنا آیا اے نہ آنا اے
جی کردا اے مرجاواں جس دن دا اے سنیا اے
دیکھو جی ہر اک شے تے پیا نور برس دا اے
انگلی نوں اٹھاندے نیں نالے چن نوں ہلاندے نے
کوئی سڑادا اے سڑ جاوے کوئی مردا اے مر جاوے
بن جانی اے گل تیری ویکھیں حشر دے دن یارا
— Unknown
مدینے کا سفر ہے اور میں نمدیدہ نمدیدہ
چلا ہوں ایک مجرم کی طرح میں جانب طیبہ
کسی کے ہاتھ نے مجھ کو سہارا دے دیا ورنہ
طوافِ کوچۃ جاناں کے قابل کون سمجھے گا
کہاں میں اور کہاں اس روضۃ اقدس کا نظارہ
مدینے جاکے ہم سمجھے تقدس کِس کو کہتے ہیں
وہی اقبالؔ جس کو ناز تھا کل خوش مزاجی پر
— Iqbal Azeem\
اللہ نے تمہیں جتنے ناموں سے پکارہ ہے
طیبہ میں جدھر دیکھو رحمت کا نظارہ ہے
سیرت کا ہر اک پہلو،اعجاز دل آرا ہے
کس ڈھنگ سے اللہ نے تم کو سنوارہ ہے
مازاغ نگاہیں تو مازاغ نگاہیں ہیں
کتنوں کے دماغوں میں تھی عرش کی اونچائی
قرآں کو نہ سمجھے تو کیا سمجھیں گے سیرت کو
— Khawaja Shouq\
مدینے مجھے بھی بلا کملی والے
تری ذات اقدس بہت ذی کرم ہے
یہ سچ ہے بہت ہی گنہگار ہوں میں
وہ ابنِ علی تیرا پیارا نواسہ
سفینہ مرا بحرِ غم میں گھرا ہے
زمانے میں کوئی بھی میرا نہیں ہے
کرم اتنا کر دے مدینہ دکھا دے
— Unknown
سہارا چاہیے سرکار ﷺ زندگی کے لۓ
حضور ﷺ ایسا کوئی انتظام ہو جاۓ
نصیب والوں میں میرا بھی نام ہو جاۓ
میں شاد شاد مروں گا اگر دم آخر
وہ بزم خاص جو دربار عام ہو جاۓ
ادھر بھی اک نگاہ لطف عام ہو جاۓ
ترے غلام کی شوکت جو دیکھ لے محمود
میں قائل آپؐ کے روضے کا وں وہ قائل طور
مدینے جاؤں دوبارہ پھر آؤں پھر جاؤں
بلاؤ جلد مدینے میں ہے امیر کو خوف
تمہاری نعت پڑھوں میں سنوں لکھوں ہر دم
میری نماز جنازہ کی یوں امامت ہو
پیا رضا و ضیا نے پیا جو مرشد نے
— Unknown
مدینے کے والی ﷺ مدینے بُلا لو
ہاں پیغام لانا میری حاضری کا
تیرے در پہ آؤں میں بن کے سوالی
غریبوں کے مولا ﷺ یتیموں کے والی ﷺ
ادھر بھی نگاہِ کرم ہو خدارا
میری عمر گزرے تیری بارگاہ میں
مقدر میں میرے وہ نوری گھڑی ہو
درِ مصطفیٰ ﷺ پر مری حاضری ہو
نگاہوں میں ہوں سبز گنبد کے جلوے
شب و روز گزریں نیازیؔ کے آقاﷺ
— Abdul Sattar Khan Niazi\
اپنے دربار میں آنے کی اجزت دی ہے
آپ کا ذکر کبھی کم نہیں ہو گا آقا
آپ کا نام تو ہر غم کی دوا ہے آقا
میری پلکوں پہ چراغوں نے فروزاں ہو کر
تلخ لہجوں کو جو شائستہ بنا دیتی ہے
معجزہ ان کی صداقت کا ہوا یوں روشن
مجھ سے بے نام و نشاں کو مرے آقا نے صبیح
— Sabeeh Rehmani\