تجھ سے کیا مخفی مرے پروردگار
نذر کرنے کے لۓ تیرے حضور
ہے خس و خاشاک کا انبار یہ
میرے قحط فکر کا تجھ کو ہے علم ؟
جو غزل سے بچ رہی تھی اہلیت
صورتِ غربال یہ چھلنی حروف
ہے عیاں آشفتگی مفہوم کی
تیری مدحت کے لۓ تیرہ جبیں
ہو رہِ اظہار میں یہ سرخرو
بخش مجھ بے برگ کرتُو غیب سے
خاک سے ہوکیا تری حمد و ثنا
ہے قلم چُپ حسرتِ اظہار سے
عمر ہے بےرنگ بے بنیاد عکس
زندگی کے منتشر انجام پر
کچھ سمجھ آتا نہیں مجھ گنگ کو
جاں خطاؤں پرہی جس کی اساس
سوچ ہے مفلوج ہیں ماؤف لفظ
کون قطرے ذرے تارے گِن سکے
ایک گلدستے میں سمٹے کس طرح
شمع تشویق و چراغ حب کے گرد
اس وفور جذب کے اظہار کی
مضمحل اعصاب کی شوریدگی
تیری لحظہ لحظہ بڑھتی شان سے
میں ہمہ خس طبع تیری ذات پاک
کھرب ہا پہلو ترے، اے حُسن کل!
معنی و مطلب تری ہر شان کے
ربنا ! مقبول ہو بین السطور
حرف کوئی بھی ترے شایانِ شاں
یہ مری سعیِ شکستہ ہو قبول
تُو نگہباں جیسے دنیا میں رہا
تجھ سے یہ عاصی ہے دل سے عفوخواہ
ایک ہی خواہش ہے اے بارالہ!
ذہن ، ترتیب توازن یاب ہو
تیرے در پرعفو کا طالب ہوں میں
حمد کے آداب سے نا آشنا
مصرع تراک بھی کب لکھا گیا؟
بھربھی مٹی سے یہ بے صرفہ لفظ
خاسر و خائن یونہی بیکار میں
جانتا ہوں میں ترے قابل نہیں
عفو کا رستہ کوئی راہ نجات
حبسِ دل میں بادِ بخشش کی چلے
زنگ اتر جاۓ ریا و مکر کا
پا رہا ہوں بارکس دربار میں
صدقۃ حضرت محمد مصطفیٰ
غایت کُن ' حاصل امکان و ہست
اسے خوشا! تکرار اس کے نام کی
نام ہے کیسا تسلسل آفریں
ذکر ہے گردان آمادہ یہی
جیبھ تھکتی ہی نہیں اس نام سے
طالب اس کی دید کا ہر دیدہور
جسؐ کا نام آتے مہک اٹھے ورق
گفتگو کیا کم ہو اسؐ کی شان کی
اس کی ذات اس کی رسالت اس کے وصف
اس کی ختم المرسلینی کو دوام
آپؐ کے اصحاب تاروں کی مثال
بڑھ کے وہ ماں باپ سے اولاد سے
منفرد فدویت و ایثار میں
تھام اپنے لطف کی آغوش میں
فنہ و شر میں نظر آۓ مجھے
حیف بڑھتی زندگی کے ساتھ ساتھ
وحشتِ شوریدگی پاۓ سکوں
عافیت اسلوب' خیر انجام ہو
روز و شب ہوں خیر خواہ خیر مند
اس جہاں میں تو ذرا ممکن نہیں
کیا ترے شایان شاں اک مدح بھی
ہے دعا یہ ہی یہی ہے التجا
اپنے دامانِ محبت میں سمیٹ
ہوں توازن یاب واماندہ حسیں
آ گیا ہے جو خلل اعصاب میں
انتشار افکار کا ہو راست رو
دہر ہو برزخ ہو عقبیٰ ہو فقط
اولین و آخریں امید تُو
ایک دو پل کے سہارے دوسرے
خوش گماں ہیں تیری رحمت پر بہت
تو نے آسودہ مجھے دکھا سدا
ہو دعاۓ رفتگاں ہمرہ مرے
ہو ازالہ اربوں جرموں کا مرے
تیری رحمت سے ہوں آساں منزل
ہو نہ دل مصلوب اس آشوب میں
ربنا سبحان ربی العظیم
عرصۃ محشر میں آسودہ رہے
حرف بخشش کی ملے مجھ کو نوید
صف بہ صف اس کی خطائیں ہیں کرم
بےکراں فہرست اس کے جرم
خوبیاں گر ایک دو ہوں بھی تو وہ
واۓ نادانی! ہمیشہ ہی رہی
تیری طاعت میں نہیں گزری حیات
داغ سھبے دور ہوں شاہا کرم!
تیرے دیں پر ہو تصدیق زندگی
پاؤں تیری بندگی میں سر خوشی
پھول بن جائیں ترے اکرام سے
بےبسی کی چُپ نہ جاۓ رئیگاں
زندگی بھر تو نے رکھا کامراں
رحم ! اے بینندۃ مافی الصدّور
تیری رحمت سے ہو اطمینان بخش
ہو مری شرمندہ چُپ' حمد آشنا
تو اگر چاہے تو یہ دیوانِ حمد
اختتام اس مصرع پر ہو حمد کا
— Unknown