جلوؤں میں محمدﷺ کے گھر جاؤں گا میں جا کر
الجھے ہوۓ اب تک جو سلجھے نہ کسی طرح
نہ حشر کا کھٹکا اور نہ خوفِ لحد ہو گا
ایمان ہےیہ میرا جب ان کا کرم ہوگا
سرکار نوازیں گے سو بار مجھے عشرتؔ
— Unknown
جلوؤں میں محمدﷺ کے گھر جاؤں گا میں جا کر
الجھے ہوۓ اب تک جو سلجھے نہ کسی طرح
نہ حشر کا کھٹکا اور نہ خوفِ لحد ہو گا
ایمان ہےیہ میرا جب ان کا کرم ہوگا
سرکار نوازیں گے سو بار مجھے عشرتؔ
— Unknown
یہ تو توفیق الہی کی اذاں ہوتی ہے
گھر سے بے روح بدن لے کے نکل پڑتا ہوں
اس کو دل چاہیے اور دل بھی مرے آقا کا
رد نہیں ہوتی مری اذن _ حضوری کی دعا
خلد ملنے کے لئے مجھ سے مرے گھر کا نہ پوچھ
ہجر کی آبلہ پائی ہے مدینے کے لئے
وہ اٹھاتے ہیں قدم عرش مہک اٹھتا ہے
میرے اشعار کہاں نعت کا معیار کہاں
— Unknown
معصیت اور گناہوں سے بچاۓ رکھنا
مجھ خطاکار کی درماندگی حشر میں بھی
سفرِ آخرت آساں ہو مرا جن سے' مرے
ساری عزت ہے اسی در کی زمیں بوسی میں
ربّا رحم وہی اس کے کرم کے بارے
رحمت ایزوی اُترے گی ثنا کی صورت
اس کے احکام ہیں ہر پہلو سے حرفِ آخر
اس کی ہشتی کے حضور اپنا عقیدت سے ریاضؔ
— Riaz Majeed\
بڑی امید ہے سرکار قدموں میں بلائیں گے
اگرجانا مدینے میں ہوا ہم غم کے ماروں کا
گناہگاروں میں خود آ آکے شامل پارسا ہوں گے
قسم اللہ کی ہو گا وہ منظر دید کو قابل
قیامت تک جگائیں گے نہ پھر منکر نکیر اس کو
غم عشق نبی سے ہوگا جب معمور دل نیر
— Syed Shareef Ud Deen Nayyar\
میری یا رب ! محافظت فرما
چاہۓ حمد میں گداز اگر
کر ہوا سے صلاح اے دل ! تو
کوئی آتا نہیں مدد کو اگر
ربّ ارحم سے التجا ہے' معاف
کر کرم اپنا' پہلے سے مضبوط
یہ سب آپس میں لڑتے رہتے ہیں
لفظ و معنی میں بڑھ گئی ہے خلیج
نادم آیا ہے تیرے در پہ ریاضؔ
— Riaz Majeed\
بھول بیٹھی ہے نظر نور کے جادے یا رب
ذات پر کتنے ہیں ناموں کے لبادےیا رب
جلوۂ سرکار ﷺاس طرح دکھادےیارب
دل تیرا گھر ہے تو اس میں اندھیرا کیسا
ہم کو بال و پر جبریل کا ارمان نہیں
بے ضمیری کے اندھیروں نے بجھا دی روحیں
فضل محدود ہے تیرا نہ کرم آقا ﷺکا
مٹ نہ جاۓ کہیں سینے کی جلن اشکوں سے
آسرا رحمت کل کا ہے گنہ گاروں کو
صدقہ شاہ ﷺمدینہ ہو عطا شوق کو بھی
— Khawaja Shouq\
نسبت کیا ہے پیاری پیاری
تیرا کرم ہے ذاتِ باری
آقا دے دو بے قراری
کرتا رہوں میں اشک باری
آقا سن لو عرض ہماری
پوری کروں میں ذمہ داری
درس وبیاں سے کیوں گھبراؤں
کیوں ہو کسی کو رعب طاری
دیتا رہوں نیکی کی دعوت
گزرے یوں ہی عمر ساری
میں بھی دیکھوں مکہ مدینہ
کب آۓ گی میری باری
عشقِ نبی ﷺ کی مۓ پلا دو
باپا عطا ہو ایسی خُماری
دے دو مرشد قُفلِ مدینہ
میں ہوں منگتا میں بھکاری
— Muhammad Binyamin Shakir Attari\
ہمارا سربھی درِ مدینہ کرم سے اپنے جھکا بھی دیجۓ
تڑپ رہےہیں سسک رہے ہیں تمہاری نظرِ کرم کی خاطر
یہ زندگی مختصربہت ہے سیاہی قسمت کی بام پر ہے
ہے موج زن بے کلی کا دریا میری آنکھوں میں شاہِ بطحا
ادھر ہیں آتے ادھر ہیں جاتے مہینے حج کے گذر ہیں جاتے
— Unknown
مانگنے کا شعور دیتے ہیں
مانگنے والا ہو اگر کوئی
گنبدِ خضریٰ کے حسیں جلوۓ
میرے آقا گنہگاروں کو
آستانِ رسول کے ذرے
جابروں کا نبی کے دیوانے
نیازیؔ کسی سے کیوں مانگیں
— Unknown
بزم کونین سجانے کے لۓ آپ آۓ
ایک پیغام جو ہر دل میں اجالا کر دے
ایک مدت سے بھٹکتے ہوۓ انسانوں کو
نا خدا بن کے اُبلتے ہوۓ طوفانوں میں
قافلے والے بھٹک جائیں نہ منزل سے کہیں
چشم دیدار کو اسرار خدائی بخشے
— Saghar Siddiqui\