میں جس ویلے وی کُر لاواں مدینہ سامنے ہووے
حیاتی داپتا کی اے کدوں مک جاوے رب جانے
تُو قادر ایں میرے مولا دعا منظور کر میری
کسےوی شہر وچ ہووے تیرے محفل میرے آقاﷺ
تُو میری وی میرے مولا ایہہ پوری التجا کردے
— Unknown
میں جس ویلے وی کُر لاواں مدینہ سامنے ہووے
حیاتی داپتا کی اے کدوں مک جاوے رب جانے
تُو قادر ایں میرے مولا دعا منظور کر میری
کسےوی شہر وچ ہووے تیرے محفل میرے آقاﷺ
تُو میری وی میرے مولا ایہہ پوری التجا کردے
— Unknown
حج کے ایّام کا ہے گھاؤ بہت
آنکھ تو خشک ہے مگر دل میں
یاد آۓ حطیم کے منظر
یاد آئیں منیٰ کی راتیں بڑھا
حیف صد حیف تیرے شہر، مرا
نعت گویانِ رفتہ کا کَل سے
وہی پَل ارجمند تھا جس پل
مالکا! کر کرم' سدا تجھ سے
وہاں کرنا ریاضؔ کو بھی یاد
— Riaz Majeed\
روضے دے چوفیرے نے غلاماں دیاں ٹولیاں
دوستا حضورﷺ دیاں محفلاں سجایا کر
کرنی اے ریس کنّے اوہناں دے نصیباں دے
تپ دیاں پتھراں تے لیٹنا دی پیندا اے
یاد وچ آقا ﷺ دی نیازیؔ جہڑے روندے نے
— Abdul Sattar Khan Niazi\
جو محفلیں سجاۓ گا وہ رحمتیں پاۓ گا
نغمے درودوں کے لب پہ سجا لو سارے
اُن کی مرادیں ساری پوری ہو جائیں گی
آقا کی شفاعت کا حقدار وہ ہے بنتا
طوفانوں کا سن کر گھبرا ذرا نہ تو
روضے کا تصور کرکے لب پہ درود سجا
قبر و حشر کا سن کے گھبرا ذرا نہ ثاقبؔ
— Unknown
پسِ مثرگاں حضوری کی دعائیں رقص کرتی ہیں
میں جب اشکوں سے لکھتا ہوں عریضہ ان کی خدمت میں
حصارِ آرزو میں شام ہوتے ہی تڑپتا ہوں
نہا جاتا ہے ہر حرفِ دعا رحمت کی بارش میں
لٹاتے ہیں سخا کی رم جھمیں وہ دونوں ہاتھوں سے
اترتے ہیں فرشتے جام لے کر آبِ کوثر کے
مدینے کے گلی کوچوں میں جب ملتا ہے بن مانگے
— Riaz Hussain Chaudhary\
غیر ممکن ہے عطا میں یہاں تاخیر کی بات
بھاری دیواں سے' جومقبول ہو اک مصرع بھی
کیسا در جودوسخا کا ہے کہ دریوزہ گرو!
ان گلی کوچوں کی خاک آئینہ ہے جنت کا
اُنؐ کی باتوں میں ہیں اسرار جہاں بانی کے
ایک مقبول سلام' ایک سرفراز درود!
سرسری جان نہ اس ذوقِ ثنا کاری کو
نہیں الفاظ سے انوار کا ممکن اظہار
انُ کی نسبت ہے ریاضؔ آئینہ نسل اندر نسل
— Riaz Majeed\
سرکار کا میلاد مناتے ہی رہیں گے
جلتے ہیں تو جلنے دو ہمیں اُن سے غرض کیا
اُس روضہء پر نور کی ہے شان نرالی
سب کچھ ہمیں ملتا ہے نبی پاک کے صدقے
کرتے ہیں دل وجان سے جو ان سے محبت
دنیا میں کسی شے کی کمی اُن کو نہ ہوگی
جب تک ہے میرے جسم میں یہ جان قلندریؔ
— Unknown
دلڑی لُٹی تیں یار سجن
ہر ظلم تیڈڑا سیہہ گئی
دِلڑی لُٹی تیں یار سجن
روہی دی عجب بہار ڈِسے
دِلڑی لُٹی تیں یار سجن
بےشک تُوں میتھوں دُور ہیں
دِلڑی لُٹی تیں یار سجن
روہی دی تَتڑی ریت وے
دِلڑی لُٹی تیں یار سجن
روہی دے کنڈڑے بیریاں
— Unknown
آپ آۓتو رات مستانی ہوگئ
دیکھ لیا جس نے جلوہ سرکار کا
تھام لیا جس نے دامن سرکار کا
ایسا کرم ہے مجھ پہ مرے لجپال کا
مل گیا دامن مجھ کو شہہ کونین کا
ایسا نوازا مجھ کو مرے سلطان نے
— Abdul Sattar Khan Niazi\
رویے خیر کے جس روز سے ہوۓ چوپٹ
بُنَت ہے طبع میں' غفلت کے تانے بانے کی
خیال و خواب میں حرص و ہواۓ دنیا ہے
ہے صفحے صفحے پہ جرم و خطا کا گرد و غبار
بس ایک ذات اسی کی بندھاتی ہے ڈھارس
گمان پرستی کا انجام یہ ہی ہونا تھا
جو بے توجہی اُس ذات سے ہے' ٹھیک نہیں
ریاضؔ ہو متوجہ! اماں میں اس کی آ
— Riaz Majeed\