اے صبا تیرا ُگزر ہو جو مدینہ میں کبھی
ہاتھ سے اپنے پکڑ کر وہ سنہری جالی
ہے تمنا یہ خدا سے کہ رسولِ عربی
عمر ساری تو کٹی لہو و لعب میں آقا
سارے اَعمال سیہ جرم سے دفتر ہے بھرا
ہے تمنا یہ خدا سے کہ رسولِ عربی
عرض کرنا کہ کہاں مجھ سا کمینہ گندہ
ہاں سنا ہے کہ نبھاتے ہیں بُروں کو مولا
ہے تمنا یہ خدا سے کہ رسولِ عربی
آرزو دِل کی ہے جب بند ہو حرکت دِل کی
روح جانے لگے جب چھوڑ کے جسمِ خاکی
ہے تمنا یہ خدا سے کہ رسولِ عربی
یا نبی اس کے سوا اور میں کیا عرض کروں
آپ کے دَر سے پَلا آپ کے دَر پر ہی مِٹوں
ہے تمنا یہ خدا سے کہ رسولِ عربی
گر مُیَسر نہیں سالکؔ کو حضورِ بدنی
جسم ہندی ہے مرا جان ہے میری مدنی
ہے تمنا یہ خدا سے کہ رسولِ عربی
— Hakeem Ul Umat Mufti Ahmed Yar Khan Naeemi\
