مانگ لو جو کچھ تمہیں درکار ہے
حاضِرِ دربار ہوں میرے طبیب
کثرتِ خَندہ سے دل مُردہ ہوا
قہقہہ تم مت لگاؤ بھائیو!
ذکرِ حق میں لب کو بس مشغول رکھ
دیجئے ’’قُفلِ مدینہ‘‘ یہ غلام
عُمر گھٹتی جا رہی ہے آہ! نفس!
دیس کا گورِ غریباں آہ! آہ!
لاج رکھنا حشر میں بدکار کی
جانکنی کا وقت ہے یامصطَفٰے
آپ کے قدموں میں گر کر موت کی
مغفِرت فرما طفیلِ مُرشِدی
بُلبلو! تم کو مبارَک پھول ہو
کیا کروں میں دیکھ کر رنگِ چمن
سبز گنبد کی ضِیائیں مرحبا
جگمگاتا ہے مدینہ رات دن
جس کی تُربت ہے بقیعِ پاک میں
مصطَفٰے اِس روز آئے اس لئے
مرحبا! آقا کی آمد مرحبا!
جو کوئی گستاخ ہے سرکار کا
دشمنوں کا تنگ گھیرا ہو گیا
آہ! دشمن خون کا پیاسا ہوا
حاسدوں کو دے ہدایت یاخدا
غوث کے دامن میں عطّارؔ آگیا
— Unknown
