بِحَمْدِ اللہ عَبْدُ اللہ کا نورِ نظر آیا
یہ عبدالمطلب کی خوبیٔ قسمت کہ ان کے گھر
وہ ختم الانبیا تشریف فرما ہونے والے ہیں
رَبیعِ پاک تجھ پر اہلسنّت کیوں نہ قرباں ہوں
ہوئے جب جلوہ فرما شاہِ ذِیشاں بزمِ دُنیا میں
جھکا جاتا ہے سجدے کے لیے اِس واسطے کعبہ
نہ کیوں تنہا کرے فرمانروائی ہفت کشور پر
کہانت مٹ گئی بالکل کہ اب وہ مخبر صادِق
علومِ اَولین و آخریں ہیں جس کے سینے میں
نفاقِ جاہلیت سے کہو اب منہ چھپا بیٹھے
شب میلاد اَقدس تھی مسرت ذَرَّہ ذَرَّہ کو
زمیں بولی کہ بت خانے سے پاک و صاف ہوتی ہوں
گنہگارو کدھر ہو فردِ عصیاں اپنی دھو ڈالو
چلو اے مفلسو جو آج مانگو گے وہ پاؤ گے
حکومت ایسی نافذ ہے کہ ان کا حکم پاتے ہی
دیا حکم حضوری جس گھڑی سرکارِ والا نے
کہو ہر روز کتنی بار تم یاد اس کی کرتے ہو
یہ کہہ اُٹھوں وہ میری قبر میں جب جلوہ فرما ہو
وہابی محفل اَقدس میں گر آئے تو یوں سمجھو
جمیلؔ قادری جب سبز گنبد اُن کا دیکھوں گا
— Unknown
