دِل کہتا ہے ہر وقت صفت اُن کی لکھا کر
اس محفل میلاد میں اے بندۂ سرکار
خالی کبھی پھیرا ہی نہیں اپنے گدا کو
خود اپنے بھکاری کی بھرا کرتے ہیں جھولی
اَعدا سے جفا پر ہو جفا اور یہ دعا دیں
کفارِ بداَطوار سے پڑھواتے ہیں کلمہ
اے اَبر کرم بارشِ رحمت تری ہوجائے
کیا دُور ہے سرکار مَدینہ کے کرم سے
گر ہند میں مرتا ہے کوئی عاشق صادق
بہکاتا ہے یوں نفس کہ گھر چھوڑ نہ اپنا
اے بادِ صبا اِتنا کرم بہرِ خدا کر
جو خلد نہ چاہیں گے مَدینے کے عوض میں
ہوگا نہ اثر ہم پہ کہ ہم عبد نبی ہیں
کیا مہر قیامت ہمیں دِکھلائے گا تیزی
مجرم سہی بدکار سہی پر ہے یقیں یہ
ہے نازوں کی پالی ہوئی یہ اُمتِ عاصی
تو حشر میں اللہ نبی سے یہ کہے گا
ہے کون وہ دولت جو نہ دی اُن کو خدا نے
مختار بنا کر انہیں فرمایا خدا نے
یہ عزت و رِفعت کہ ہر اِک شے پہ خدا نے
اللہ نے دی تیرے غلاموں کو یہ قوت
عالم کی خبر رکھتے ہیں گر وہ تو عجب کیا
تعلیم دی اِک نام کو جبریلِ امیں نے
آجانا مَدد کے لیے اے مَاہِ مَدینہ
اِک جام مئے عشق کا بندہ کو پلا کر
یہ حکم ملا رُوحِ امیں کو شب معراج
حاضر درِ اَقدس پہ ہوئے رُوحِ مُعَظَّم
حاضر ہے براق اور ہے طالب کا تقاضا
دولہا بنے تیار ہوئے صاحب معراج
سدرہ پہ تھکے بازوئے جبریل تو آگے
تنہائی سے خائف ہوئے جب شاہ تو رب نے
پھر عرش سے پار اپنے قریں ان کو بلایا
محبوب نے کی عرض کہ مولیٰ مری امت
جانِ دوجہاں رحمت عالم پہ ہو قرباں
وہ روز جمیلؔ رضوی کو ہو مُیَسَّر
— Jamil Ur Rehman Qadri\
