تمہارے در پہ جو میں باریاب ہوجاؤں
جو پاؤں بوسۂ پائے حضور کیا کہنا
مری حقیقت فانی بھی کچھ حقیقت ہے
جہاں کے قوس و قزح سے فریب کھائے کیوں
جہاں کی بگڑی اسی آستاں پہ بنتی ہے
تمہارا نام لیا ہے تلاطم غم میں
یہ میری دوری بدل جائے قرب سے اخترؔ
— Mufti Akhtar Raza Khan Qadri Azhari\
