دل میں ہو یاد تیری گوشہء تنہائی ہو
آستانہ پہ تیرے سرہواجل آئی ہو
اُس کی قسمت پہ فدا تختِ شہی کی راحت
اک جھلک دیکھنے کی تاب نہیں عالم کو
آج جو عیب کسی پر نہیں کھلنے دیتے
یہی منظور تھا قدرت کو کہ سایہ نہ بنے
کبھی ایسا نہ ہوا ان کے کرم کے صدقے
بند جب خواِ اجل سے ہوں حسنؔ کی آنکھیں
— Unknown
