صبح طیبہ میں ہوئی بٹتا ہے باڑا نور کا
باغ طیبہ میں سہانا پھول پھولا نور کا
میں گدا تو بادشاہ بھر دے پیالہ نور کا
تیری ہی جانب ہے پانچوں وقت سجدہ نور کا
پشت پر ڈھلکا سر انورسے شملہ نور کا
تاج والے دیکھ کرتیرا عمامہ نورکا
شمع دل مشکوٰۃ تن سینہ زجاجہ نورکا
تیرےآگےخاک پر جھکتا ہےماتھانورکا
تو ہے سایہ نورکا ہر عضوٹکڑا نورکا
تیری نسل پاک میں ہے بچہ بچہ نور کا
نور کی سرکارسےپایا دو شالہ نور کا
چاند جھک جاتاجدھر انگلی اٹھاتےمہدمیں
اے رضا یہ احمد نوری کا فیض نورکا
— Ala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan Barelvi\
